خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 243 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 243

خطبات طاہر جلد 15 243 خطبہ جمعہ 29 مارچ 1996ء تحیات ہیں، یہ تھتے ہیں، کوئی ٹیکس نہیں ہے۔پس چندوں کا نظام آپ دیکھیں اس میں ادنی بھی ٹیکس کی بونہیں ہے۔ورنہ جو ٹیکس ادا نہ کرے اسے کئی قسم کی سزائیں ملتی ہیں اور پکڑا جاتا ہے، مجبور کیا جاتا ہے۔مگر چندے کے نظام میں ایک پوری آزادی حاصل ہے۔جو چاہے قربانی پیش کرے جو چاہے نہ کرے کیونکہ یہ تحفہ ہے۔اگر خدا سے اتنا سا اس کا تعلق ہے کہ جو کچھ اس نے دیا تھا وہ بھی اس کے حضور لوٹا نہیں سکتا تو اسی حد تک وہ عہد کی پابندی سے الگ ہو گیا اور جو سزا کا تصور ہے وہ صرف بدعہدی کے نتیجے میں طبعی نتائج ہیں حقیقت میں Coercion نہیں ہے۔مثلاً ہم کہتے ہیں کہ جو چندے نہیں دیتا اس کو مجلس شوری میں ووٹ دینے کا حق نہیں، کسی مرکزی عہدے کو سنبھالنے کا حق نہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ خدا کی محبت کے تحفے اس کو اس بات کا اہل بناتے ہیں اس کے نتیجے میں اس کے دل میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے اور جس سے وہ محبت کرتا ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ اپنی جان عزیز کو بھی اس کے حضور میں پیش کر دیتا ہے اپنے کمائے ہوئے مالوں کو بھی جو اسے بہت محبوب ہوتے ہیں اس کے حضور پیش کرتا ہے۔اگر ایسا کرتا ہے تو محبت کے رشتوں میں باندھا ہوا ہے اس کا مشورہ قیمتی ہے۔اس کے مشورے کی قدر ہے۔اس کے کام میں برکت ہو گی۔مگر اگر ایسا نہیں کرتا تو خدا کو ایسے شخص کے مشوروں کی ضرورت کیا ہے یعنی خدا والوں کو ، اس کا نظام چلانے والوں کو ایسے شخص کے مشوروں کی نہ ضرورت ہے، نہ ان کی نظر میں کوئی قیمت ہے۔پس اگر یہ سزا آپ سمجھتے ہیں تو یہ ایسی سزا تو نہیں کہ اس کے نتیجے میں وہ پیسے دینے پر مجبور ہو جائے۔بعض لوگ جو خدمت نہیں کر سکتے چندے نہیں دے سکتے وہ وقت بھی قربان نہیں کرتے ، بہت کم ہیں جو ایسا کرتے ہیں کہ چندوں میں ہاتھ روک لیتے ہیں اور وقت کی قربانی کے لئے آ جاتے ہیں۔ان میں بھی یاد رکھو کہ ان کی وقت کی قربانی محبت کی وجہ سے نہیں ہوتی دکھاوے کی وجہ سے ہوتی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں عہدے سنبھالنا ہماری دنیاوی عزت کا موجب ہے۔وہ سمجھتے ہیں ہم اگر کاموں میں آگے آئیں گے تو ہماری چودھراہٹ بڑھے گی۔پس ایسے لوگ ابتلاؤں میں سب سے پہلے مارے جاتے ہیں۔اسی لئے میں جماعت کو بار بار نصیحت کرتا ہوں کہ خدمت کے کام لیں لیکن یا درکھیں جو خدا کی راہ میں مالی قربانی کرتا ہے وہی وفادار ہے وہی وقت پر آپ کے کام آئے گا ورنہ