خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 238
خطبات طاہر جلد 15 238 خطبہ جمعہ 29 / مارچ 1996ء Absolute Leadership ہو وہاں ماتحت کے لئے نرمی رفتہ رفتہ غائب ہونی شروع ہو جاتی ہے سوائے اس کے کہ اللہ کا حوالہ ہمیشہ پیش نظر رہے اور یہ ایک ایسا طبعی اصول ہے جس کے تابع جتنا بلند مرتبہ اور زیادہ طاقتور بادشاہ ہو گا اتنا ہی اپنے آپ کو غریبوں کے مسائل کا خیال کرنے کا کم پابند پائے گا۔اتنا ہی اس میں ایک ایسی غناء پیدا ہوتی چلی جائے گی جو قابل تعریف غناء نہیں بلکہ قابلِ مذمت غناء ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ اگر کوئی میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتا تو مجھے کیا ضرورت ہے کہ اس سے ہنس کے ہی بات کروں۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کو بطور خاص خدا تعالیٰ نے چن کر فرمایا کہ تو اپنی تمام عظمتوں کے باوجود اگر خدا کی رحمت تجھے بطور خاص عطا نہ ہوتی تو ضروری نہیں تھا کہ ان کے لئے نرم ہوتا کیونکہ انسانی فطرت کے تقاضے ہیں۔یہ فطرت انسان کو بعض دفعہ اپنے بہاؤ پر اس طرح لے کے چلتی ہے کہ چلنے والے اور بہنے والے کا کوئی اختیار نہیں ہوا کرتا۔Moving Plateforms ہوتے ہیں۔کشتیوں میں سمندروں میں، دریاؤں کے بہاؤ کے ساتھ مسافر خود بخود آگے بڑھتے ہیں۔پس یہ وہ مضمون ہے جو فطرت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کبھی بنی نوع انسان میں کسی کو اپنے غلاموں پر اختیار نہیں دیا گیا۔اور غلام بھی ایسے کامل تھے کہ انہوں نے اپنا سب کچھ آنحضور نے کے حوالے کر رکھا تھا یہاں تک کہ یہ بھی دستور تھا کہ جب آپ مشورہ مانگتے تھے تو عرض کیا کرتے تھے کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ہم کون ہوتے ہیں مشورہ دینے والے۔اسی لئے قرآن کریم فرماتا ہے قُلْ يُعِبَادِی اے صلى الله محمد رسول اللہ ! یہ تو تیرے کامل غلام بنے ہوئے ہیں یہ بندوں کی طرح تیرے حضور حاضر رہتے ہیں ان کو کہہ اے میرے بندو! یہاں بندے کہہ کر خدا سے الگ بندگی مراد نہیں بلکہ یہ پیغام ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کیوں کہ عبد کامل ہیں اس لئے جو ان کا بندہ بنتا ہے وہ خدا کے سوا کسی کا بندہ بن ہی نہیں سکتا اس لئے محمد رسول اللہ اللہ کو حکم ہے کہ تو ان کو اپنا بندہ کہہ دے تا کہ ان کی توحید پرستی کی صلى الله تعریف ہو کیونکہ محمدﷺ کا بندہ خدا کا بندہ ہے اس کے سوا کوئی اور صورت ممکن ہی نہیں ہے۔پس اس پہلو سے فرمایا کہ تو اتنی عظمتوں کا مالک، تجھے خدا نے سارے اختیار دے دیئے یہ بھی تیرے حضور اپنی گردنیں جھکائے بیٹھے ہیں لیکن اگر تجھے وہ رحمت عطا نہ ہوتی جس کے نتیجے میں طبعی محبت کے جوش سے تو ان پر جھکا ہے، عقلی تقاضوں کی وجہ سے نہیں محبت کی وجہ سے، تو پھر ان کو تو