خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 237
خطبات طاہر جلد 15 237 خطبہ جمعہ 29 / مارچ 1996ء مخالفت، پارٹی کی تائید یا پارٹی کی مخالفت کی وجہ سے ایک ایسا روز مرہ کا دستور بن جاتا ہے کہ اس سے ہٹنے والا قوم کا یا اس پارٹی کا بے وفا سمجھا جاتا ہے۔ابھی انگلستان کی پارلیمنٹ میں بھی ایسے واقعات ہوئے۔ایک پرانے کنزرویٹو ممبر نے کسی اختلاف کی وجہ سے جس کو اس نے اصولی اختلاف قرار دیا پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کیا اور بہت شور پڑا اس پر اور ان کی اپنی Constitution میں بھی ان کے خلاف مخالفت کی آوازیں اٹھائی گئیں مگر یہ ضرور ہے کہ ان کا حق ضرور تسلیم کیا گیا۔چھوٹے اور غریب ملکوں میں تو حق کے ساتھ ایسا حق استعمال کرنے والا بھی مارا جاتا ہے۔مگر بہر حال نظام ہے نظام میں کبھی ہے اور اس نظام کی رو سے الا ما شاء اللہ جیسا کہ میں نے مثال دی ہے خواہ انسان حق سمجھے یا نہ سمجھے پارٹی کی وفاداری کا تقاضا یہ ہے کہ پارٹی کے ساتھ رہیں اور اسلامی نظام میں پارٹی کا وجود ہی کوئی نہیں ہے اور پارٹی کا وجود منا اپنی ذات میں ایک بہت بڑی رحمت ہے کیونکہ ہر شخص اپنے نفس کی خاطر نہیں بلکہ اپنے نفس کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ محض اللہ کی خاطر فیصلہ کرنا ہے۔محض اللہ کی خاطر مشورہ دینا ہے۔یہ اصولاً تو بات ٹھیک ہے مگر چل نہیں سکتی جب تک کہ رحمت کا مضمون اس کے ساتھ شامل نہ ہو۔اس کا قطعی ثبوت قرآن کریم کی یہ آیت اس رنگ میں پیش کرتی ہے کہ تمہارے قومی معاملات میں جو باہمی محبتیں اور باہمی ربط کے سلسلے جاری ہوں گے ان کی بناء عقلی نہیں ہے، ان کی بناء دلائل پر نہیں ہے۔یہ جو قومی وحدت ہے محض رحمت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔اس سے بڑا اس کا ثبوت نہیں ہو سکتا کہ فرمایا لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ کہ اے محمد ﷺ ! تیرے جیسا کامل فہم والا انسان، اولوالالباب کا سردار تو بھی ان کو اکٹھا نہیں کر سکتا تھا اگر رحمت سے خالی ہوتا۔پس عقل کبھی بھی قوموں کو اکٹھا باندھ نہیں سکتی۔تدبیریں کبھی قوموں کو اکٹھا نہیں رکھ سکتیں۔ایک مرکز پر جمع ہونا رحمت سے تعلق رکھتا ہے۔باہمی محبت اور پیار اور ایک دوسرے کا ادب، ایک دوسرے کا خیال، ایک دوسرے کے مفادات کو اپنے مفاد سمجھنا یہ سب رحمت کے تقاضے ہیں جن کے نتیجے میں قومی وحدت ظہور میں آتی ہے۔پس فرمایا فَمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ تجھ پر جو خدا کی رحمت ہے وہ تو اتنی ہے کہ اسی رحمت کا ایک طبعی تقاضا تھا کہ تو ان کے لئے نرم پڑ گیا۔آنحضرت ﷺ کو یہ کیوں فرمایا ہے کہ رحمت کی وجہ سے تو نرم پڑا ہے۔وجہ یہ ہے کہ جہاں