خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 236
خطبات طاہر جلد 15 236 خطبہ جمعہ 29 / مارچ 1996ء قریب تر تھا اس نے سب سے زیادہ فیض پایا۔ورنہ رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ کا مضمون بتا رہا ہے کہ آپ کی رحمت محض صحابہ کے لئے خاص نہیں تھی تمام بنی نوع انسان کے لئے تھی جیسا کہ اللہ کی رحمت سب بنی نوع انسان کے لئے ہے بلکہ ہر مخلوق پر حاوی ہے۔پر فَبَمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللہ سے طبعا اور علی نتیجہ یہ کہتاہے کہ آنحضور ﷺ کی رحمت جو خدا سے آپ پر اتری وہ اسی طرح بندوں میں تقسیم ہوئی بلکہ مخلوق نے بھی اس سے حصہ پایا اور یہ وہ رحمت ہے جو بنی نوع انسان کو ایک ہاتھ پر جمع کرنے کے لئے ضروری ہے ورنہ کوئی نظام بنی نوع انسان کو ایک ہاتھ پر جمع نہیں کر سکتا۔یہ مرکزی نکتہ ہے جو بہت ہی قابل توجہ ہے اور اگر یہ رحمت نہ ہو جو بندوں کو آپس میں باندھے تو ان کا کوئی نظام شوری بھی فائدہ مند نظام شوری نہیں ہوسکتا۔اگر نفرتوں سے دل پھٹے ہوئے ہوں اور ایک نیشنل اسمبلی کی چھت کے نیچے وہ شوریٰ کی خاطر ، مشوروں کے لئے اکٹھے ہو جائیں تو جوتیوں میں دال تو بٹ سکتی ہے مگر فائدے کی چیزیں رونما نہیں ہوسکتیں۔پس قرآن کریم کی تعلیم دیکھیں کیسی کامل ہے اور کیسی پر حکمت اور کتنی گہری اور کتنی باہم مربوط ہے۔ذکر رحمت کا چلا ہے بات شوری پر ختم فرماتا ہے کیونکہ یہ بنیادی شرطوں میں سے ایک شرط ہے۔کوئی انسان جو رحمت سے عاری ہو یا اپنے بھائی کے لئے اس کا دل محبت سے خالی ہو وہ نہ مشورہ لینے کا اہل ہوتا ہے نہ مشورہ دینے کا اہل ہوتا ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ مشاورت کا لفظ بولا ہے یا شوری کا بالامانة کہ شوری یا مشاورت یعنی ایک دوسرے سے باہمی مشورہ کرنا ایک امانت ہے اور جس سے مشورہ کیا جائے اس کا فرض ہے کہ بعینہ وہی بیان کرے جو اس کے نزدیک مشورہ لینے والے کے لئے بہتر ہے اور اپنے مفاد کی خاطر نہیں بلکہ مشورہ کرنے والے کے مفاد کی خاطر مشورہ دے اور جب وہ مشورہ طلب کرے گا تو اس سے بھی بعینہ یہی سلوک ہوگا۔پس یہ بات آپس کے تعلقات ہی میں نبجھ سکتی ہے ورنہ ناممکن ہے۔ورنہ اگر آپس میں محبت نہ ہو، ایک دوسرے کے بدخواہ لوگ ہوں تو جب بھی مشورہ مانگا جاتا ہے کوئی چکر والا مشورہ دیا جاتا ہے تا کہ اس سے مشورہ لینے والا تباہ ہو جائے اور دنیا کا نظام، نظام شوری اگر بعینہ ایسا نہیں تب بھی اس میں فساد کی را ہیں اتنی زیادہ ہیں کہ کوئی ایک نظام شوری بھی نہیں جس کے متعلق ہم یہ کہہ سکیں کہ وہاں ہر مشورہ دینے والا امین ہوتا ہے۔بلکہ وہ نظام شوری جو پارٹیوں میں تقسیم ہو چکا ہے اس میں مخالفت برائے