خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 18 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 18

خطبات طاہر جلد 15 18 خطبہ جمعہ 5 جنوری 1996ء تعداد تو جماعت میں مالوں کی بھی بڑھ رہی ہے اور انفس کی بھی بڑھ رہی ہے اس کے علاوہ ایک نظام ہے کہ جہاں تعداد کم بھی ہوتی چلی جاتی ہے اور وہ موت کے ذریعے خدا کا قطعی اٹل نظام چلتا ہے کہ نیک ہوں یا بد ہوں سب نے بالآخر خدا کے حضور واپس جانا ہے۔ جو ترقی کرنے والی قو میں ہیں ان کے زندوں کی تعداد مرنے والوں کے مقابل پر بہت تیزی سے بڑھتی ہے۔ جو زندہ رہنے والی قومیں ہیں ان کے اندر صاحب ایمان اور پر خلوص اور تعلق باللہ رکھنے والوں کی تعداد ان کے مقابل پر بہت زیادہ بڑھتی ہے جو چھوڑ کر واپس خدا کے حضور حاضر ہورہے ہوتے ہیں۔ حضرت مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب کا میں نے ذکر کیا تھا ان کے علاوہ بھی کچھ جنازے ہیں۔ مولوی امیر احمد صاحب درویش قادیان سلمی صدیقہ صاحبہ امیر صاحب اسلام آباد علیم الدین صاحب کی بیگم ، چو ہدری فضل الہی صاحب ربوہ منور احمد صاحب لون ، مکر مہ سردار بیگم صاحبہ اہلیہ علیمحمد صاحب۔ یہ ہمارے شیر محمد کی بھا وجہ تھیں۔ مکرم ملک ناصر احمد صاحب ہم زلف ملک اشفاق احمد صاحب، افسر حفاظت یا نائب افسر حفاظت ، ان سات کے جنازے بھی ابھی نماز جمعہ اور عصر کے بعد پڑھے جائیں گے۔ مولوی صاحب کے متعلق بالکل مختصر تعارف میں کروا دیتا ہوں کہ آپ کی پیدائش 17 دسمبر 1917 ء کی ہے یعنی مجھ سے عمر میں گیارہ سال بڑے تھے اور اللہ کے فضل کے ساتھ بچپن ہی سے خدمت دین کے لئے وقف اور ہمہ تن خدمت دین خصوصاً علمی خدمت میں پیش پیش رہے۔ آپ کے دادا حضرت حکیم چراغ دین صاحب اور والد حضرت منشی عبدالحق صاحب دونوں صحابی تھے اور منشی صاحب کی اولاد سای خدا کے فضل سے دیندار، بہت نیک ، خدمت کرنے والی اور ان کی اگلی نسلیں بھی آگے پھر اسی رنگ میں رنگین ہیں۔ حضرت مصلح موعود کا دست شفقت خصوصیت سے حضرت مولوی صاحب پر ہوا کرتا تھا یہاں تک کہ بہت سے لوگ اس سے کچھ حسد نہیں تو رشک محسوس کیا کرتے تھے مگر دیکھنے والوں کو حسد لگا کرتا تھا۔ اس حد تک مولوی صاحب سے حضرت مصلح موعود شفقت فرمایا کرتے تھے کہ دوسرے علماء کو بھی تکلیف ہوتی تھی کہ اس میں کون سی زیادہ باتیں آگئیں ہیں جو اتنا لا ڈلا ہے اور بڑی بات یہ تھی کہ خدمت دین میں خصوصیت سے علمی خدم خدمت میں مولوی صاحب کو ایک بڑے لمبے عرصے تک توفیق ملی ہے کہ مصلح موعود کی مدد کریں اور اس کا اظہار مختلف