خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 230
خطبات طاہر جلد 15 230 خطبہ جمعہ 22 / مارچ 1996ء نے کچھ دنیا میں کمایا ہے یا کچھ کوشش کی ہے۔فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِهَا پس وہ لوگ جو اس پر ایمان نہیں لاتے جب تک وہ اس آخری منزل تک نہیں پہنچتے اگر تم ان کے قریب رہو گے تو وہ تمہیں بھی اس سے ہٹالیں گے تمہیں بھی اس راہ سے روک دیں گے۔پھر عجیب بیان ہے ایک طرف یہ قطعی خبر ہے کہ ہر جان لازماً اس مقام تک پہنچائی جائے گی جہاں اس پر بعد کی زندگی روشن کر دی جائے گی اور پردے اٹھائے جارہے ہوں گے۔لیکن جن کو اس وقت دکھائی دے گا فرمایا وہ پہلے ایمان نہیں لاتے۔اگر پہلے ایمان لاتے تو انہیں پہلے بھی دکھائی دیتا۔ایسے لوگوں کے قریب نہ رہو، ایسے بے ایمانوں کے ساتھ دوستی نہ کرو جن کو آخرت پر یقین نہیں ہے۔یقین تو ہو گا لیکن اس وقت ہوگا۔جب ان کے لئے دیر ہو چکی ہوگی اور بے فائدہ ہو چکا ہوگا۔جب موت کے چنگل میں مبتلا ہوں گے اس وقت وہ دیکھ لیں گے اور فرمایا ضرور ایسا وقت آنے والا ہے۔مگر جب تک وہ نہیں دیکھتے وہ دوسروں کو اس راستے سے روکتے ہیں۔فرمایا تجھے ایسے لوگوں کا تعلق روک نہ دے۔مَنْ لا يُؤْمِنُ بِهَا وَاتَّبَعَ هَوْنَهُ فَتَر دی (طہ: 17) وہ اپنی ہوا کی پیروی کرنے والے لوگ ہیں وہ رضائے باری تعالیٰ کی پیروی نہیں کرتے۔پس اگر تو ایسے لوگوں سے دوستی رکھ کر ان کے پیچھے لگے گا تو تو بھی ہلاک ہو جائے گا۔فَتَر دی لازم تو ہلاک ہو گا اور ہلاکت کی آخری شکل کیا ہے۔فرماتا ہے اَرَعَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ الهَهُ هَومَهُ أَفَأَنْتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا (الفرقان: 44)۔کیا تو نہیں جانتا کہ ایسے لوگوں کی ظلمت پھر بالآ خرکتنی گہری ہو جاتی ہے۔پہلے وہ اپنی ھوی کے پیچھے چلتے ہیں پھر اپنی خواہش کو معبود بنالیتے ہیں۔پہلے اس کی پیروی کرتے ہیں اس کو حاصل کرنے کے لئے۔پھر جس کو وہ حاصل کرنے کی پیروی کرتے ہیں وہ چیز ان پر سوار ہو جاتی ہے ان پر قبضہ کر لیتی ہے اور یہ لوگ اپنی خواہش کے غلام بن جاتے ہیں اور جب خواہش کا غلام ہوں تو اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں اور یہ وہ مضمون ہے جو ایک گہری انسانی فطرت پر روشنی ڈال رہا ہے جس سے تمام دنیا کے مذاہب کا تعلق ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ بے خدا کوئی انسان رہ نہیں سکتا۔ناممکن ہے کہ کوئی شخص خدا کے بغیر رہ سکے کیونکہ خدا کی طلب اس کی فطرت میں مرتسم فرما دی گئی ہے۔قول بلی سے ہر روح نے یہ اقرار کیا۔ہے کہ ہاں ہمارا ایک رب ہونا چاہئے اور ہے، کیوں نہیں ہے۔پس وہ لوگ جو حقیقی رب سے تعلق توڑتے ہیں یہ وہم ہے کہ وہ بے خدا رہتے ہیں۔فرمایا ان پر ان کی خواہشات اس طرح غالب آ جاتی