خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 228
خطبات طاہر جلد 15 228 خطبہ جمعہ 22 / مارچ 1996ء ہونی ہی نہیں جو اس کے حصے کی چیز نہیں ہے اکثر اس کی پیروی میں لگا رہتا ہے یہ بھی ایک اندھیرا ہے۔مگر جب نہیں بھی پاتا یا رڈ بھی کیا جاتا ہے تب بھی بسا اوقات وہ طلب مرتی ہی نہیں ہے یہ اس کے ادنیٰ مقام کا نشان ہے، یہ اس کے احتیاج کی علامت ہے۔پس جو عشاق اپنے محبوب، اپنے مطلوب کو نہ پائیں اور پھر بھی اس کے پیچھے لگے رہیں اور اکثر دنیا کے عشاق کا یہی حال ہوتا ہے یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ان کا مقام در اصل ادنی ہے۔وہ اپنی ذات میں غنی نہیں ہیں، مستغنی نہیں ہیں اور وہ جس کی طلب ہے اگر وہ ان کو جواب میں پیار عطا نہ کرے تو ان کی زندگی محرومیوں کا شکار رہے گی۔ایسی صورت میں وہ اپنے دل پر ان کی یاد کے خلاف کوئی پردہ نہیں ڈالتا بلکہ پردہ پڑنے بھی لگے تو اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔وہ سمجھتا ہے میں ساری عمر اسی کی پوجا کروں اسی کے پیچھے لگار ہوں کسی اور کا خیال تک میرے دل میں نہ آئے ٹھوکریں لگتی ہیں تو ٹھوکریں لگتی رہیں مگر آخر دم تک میں اسی محبوب کا پجاری بنا رہوں۔یہ انسانی فطرت ہے جو اسے اپنے لا حاصل عشق پر ثبات قدم عطا کرتی ہے۔ایسا عشق جو لا حاصل ہے اس کا فائدہ کوئی نہیں پھر بھی اسے ثبات قدم ہے۔یہ ثبات قدم خوبی کا ثبات قدم نہیں ہے۔یہ استقلال ایسا نہیں جس کی تعریف کی جائے۔یہ اس کی کمزوری کا مظہر ہے وہ بے چارہ اس کے بغیر رہ نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں ایسا بے چارہ نہیں ہوں کہ تم مجھے نہ چاہو اور میں تمہارے بغیر نہ رہ سکوں بلکہ میں تو بے نیاز ہوں۔حقیقت میں میں جو تمہارے دل میں آتا ہوں تو تمہاری ضرورت کے خیال سے۔اگر تم نہ چاہو گے تو مجھے کوڑی کی بھی پرواہ نہیں ہے کہ تمہارے دل میں براجمان ہوں۔اَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا ایسا شخص جو ہماری یاد کو پیار اور محبت سے نہیں دیکھتا یعنی جس طرح اُردو میں تو ہم کہتے ہیں ہماری بلا سے، خدا فرماتا ہے مجھے اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں پھر کہ میں اسے یادر ہوں یا نہ رہوں بلکہ ہم خود اپنی عزت اور اپنی شان کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اس کے دل پر اپنی طرف سے پردے ڈال دیتے ہیں۔اس کے مددگار بن جاتے ہیں ان چیزوں میں جو وہ خود اپنے لئے پسند کر بیٹھا ہے۔تو وہ موقع ہی ہاتھ سے جاتے رہتے ہیں جن موقعوں میں خدا کی یاد اس کو آسکتی ہے اور جتنا انسان خدا کے مخالف سمت سفر اختیار کرتا ہے، جو اندھیروں کا سفر ہے، اتنا ہی خدا کی سمت میں اور پر دے اترتے جاتے ہیں اور ہر پردہ اس کے اندھیروں کو زیادہ گہرا کر دیتا ہے۔تو فرمایا کہ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهُ اس کے پیچھے نہ لگ جانا اس کی