خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 227 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 227

خطبات طاہر جلد 15 227 خطبہ جمعہ 22 / مارچ 1996ء امر واقعہ یہ ہے کہ اگر کسی کو روشنی کا سلیقہ ہو اور واقعہ روشنی کو روشنی سمجھ رہا ہو تو ارد گرد کے اندھیروں میں اس کی آنکھ وہ دیکھ ہی نہیں سکتی جو روشنی سے آشنا ہے۔نظر ہی کچھ نہیں آتا تو وہ ہٹے گی کیسے۔تو فرمایا اپنی نظر کواتنا Tune کر لو روشنی کے ساتھ کہ روشنی ہی دکھائی دے اور اردگردد یکھنے کا موقع ہی پیدانہ ہو۔تمہاری ساری کائنات وہی ہو جو اللہ کے نور کی پیدا کردہ کا ئنات ہے اس کو دیکھو اور وہیں تک تمہاری سرحد میں ہوں۔اس سے ارد گرد چونکہ اندھیرا ہے اس لئے آنکھیں وہاں سے ہٹ کر کسی اور چیز کی تلاش کر ہی نہیں سکتیں۔اگر تو ایسا کرے گا تو فرمایا تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا توتو اصل میں ابھی تک دنیا کی زینت کی تلاش میں ہی ہے اور اس مصیبت نے تیرا پیچھا نہیں ابھی تک چھوڑ ا۔اگر تو ایسا کرے تو پھر تیرا حال یہ ہے ابھی بھی تجھے دنیا کی زینت ہی کی تلاش ہے جس زینت کو اللہ تعالیٰ جھوٹ اور غرور کہہ چکا ہے، جس کو بے حقیقت اور بے معنی اور بے مقصد بتا چکا ہے۔وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَونَهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا (الكيف: 29) اور ہرگز اس کی پیروی نہ کر۔مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنا جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے۔وَاتَّبَعَ ھونے وہ بھی خلا میں نہیں رہ سکتا۔جب ہماری یاد سے غافل ہوتا ہے تو کیا کرتا ہے وَاتَّبَعَ ھونے اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کرتا ہے، اپنی دلی آرزو کے پیچھے لگ جاتا ہے۔وَاتَّبَعَ هَونَهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا اور اس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا معاملہ ہوتا ہے یعنی ایسا معاملہ ہے کہ جو حدیں پھلانگ چکا ہے اور اب اس کا ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف دائمی سفر ہے یعنی یہ مراد نہیں کہ ایک مقام پر کھڑا ہو گیا اور وہ آخری تجاوز کا مقام ہے۔تجاوز سے مراد ایک سفر ہے جہاں ہر اگلی حالت پہلے سے زیادہ بے اعتدالی کی حالت ہوتی ہے۔ہرا گلا اندھیرا پہلے سے زیادہ سخت اور ظالم اندھیرا ہوتا ہے۔مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا یہاں ضمیر خدا تعالیٰ نے اپنی طرف پھیری ہے کہ ہم اس کے دل کو اپنے ذکر سے غافل کر دیتے ہیں۔دراصل یہ ایک جزا ہے جس کا ذکر کیا جا رہا ہے اور ایک ایسے انداز میں ذکر کیا جا رہا ہے جس سے خدا کی شان تمجید ظاہر ہوتی ہے۔اس کا مسجد ، اس کی عزت ، اس کا وقار، اس کی بلندی۔ہم جب کسی کو چاہتے ہیں اور وہ ہمیں نہیں چاہتا تو اس کے باوجود ہم اس کے پیچھے لگے رہتے ہیں اور بسا اوقات انسان اپنی زندگی اسی طرح کے سراب کی پیروی میں بھی ضائع کر دیتا ہے۔جو لذت اس کو نصیب