خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 220 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 220

خطبات طاہر جلد 15 220 خطبہ جمعہ 22 / مارچ 1996ء وقت ان فرائض کا خیال نہیں کرتے اور خدا تعالیٰ کی عبادت اور دیگر فرائض کو ان مشاغل پر قربان کر دیتے ہیں خواہ وہ کھیل ہو یا لہو ہو یعنی تماشہ، تو ایسے لوگوں کے لئے خطرہ درپیش ہے اور ان کے قدم پھر آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور مزید اور بھی زیادہ سفر اند ھیروں میں جا کر کلیہ ہدایت کے رستے سے عاری ہو جاتا ہے۔اس مضمون میں جو قرآن کریم کی آیات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں بہت سی ہیں مثلاً ان میں سے دو فرما رہی ہیں: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِيْنَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبَّا مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاء وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى الصَّلوةِ اتَّخَذُو هَا هُزُوا وَ لَعِبًا ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْم لَا يَعْقِلُونَ (المائدة: 59:58) وہی مضمون جو میں نے آپ کے سامنے بیان کیا ہے اس کو زیادہ تفصیل کے ساتھ یہاں بیان فرمایا گیا۔فرمایا ہے کہ یاد رکھو ایسے لوگ بھی ہیں جو جب کھیل کود میں مصروف ہوں یا لہو میں مبتلا ہو جا ئیں تو پھر اپنے معصوم دائروں میں نہیں رہتے بلکہ آگے قدم بڑھا کر دین سے بھی ایسا ہی سلوک کرنے لگتے ہیں اور دین کو بھی کھیل کو د بنا لیتے ہیں۔جس طرح کھیل کود پر تبصرے ہوں تو کسی انسان کو گناہ کا احساس نہیں ہوتا۔کیا فرق پڑتا ہے کوئی کسی ایک کھلاڑی کے خلاف بات کر دے یا دوسرے کے خلاف بات کر دے۔مگر جب کھیل کود کے دائرے پھلانگ کر یہ لوگ مذہب کے دائرے میں داخل ہو کر خدا کے برگزیدہ لوگوں پر زبانیں کھولتے ہیں، ان پر تبصرے شروع کر دیتے ہیں، اپنی مجالس میں ان تبصروں کا نشانہ دین والوں کو بناتے اور ان کے دین کو بنا دیتے ہیں تو پہلی ہدایت یہ دی ہے کہ یہ ظالم لوگ ہیں ان سے بچ کے رہو، ان کی سوسائٹی سے قطع تعلقی کرو اور اگرتم ایسا نہیں کرو گے تو بالآ خرتم انہی جیسے ہو جاؤ گے۔پس جہاں ایسے لوگ مخاطب ہیں جو بالعموم اپنے روز مرہ کے مشاغل میں کھیل کو داور لہو کو اپنی حدود میں رکھتے ہیں ان کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ یہ مقام محفوظ نہیں ہے اگر تم ان لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہو جو یہاں رعایت نہیں کرتے یعنی یہ خیال نہیں کرتے کہ کن لوگوں کی باتیں ہو رہی ہیں کس مضمون کی بات ہو رہی ہے اور ادب کی رعایت سے نکل کر پھر وہ گستاخی کی حدود میں