خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 219
خطبات طاہر جلد 15 219 خطبہ جمعہ 22 مارچ 1996ء تماشہ اپنی ذات میں کوئی بری بات نہیں ہے۔ کھیل اپنی ذات میں کوئی بری چیز نہیں، انبیاء بھی کھیل کود میں حصہ لیتے ہیں ۔ سوال صرف یہ ہے کہ یہ پہلی منزل ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے دائرے کے اندر رہنے والی منزل ہے۔ اندھیرا تب بنتا ہے جب اس رضا کی منزل سے انسان اگلی منزل میں قدم رکھتا ہے اور لعب بھی اور لہو بھی یہ دونوں انسان کو بعض دفعہ انتہائی گناہ میں مبتلا کر دیتے ہیں، ایسے گناہ جسے خدا تعالیٰ شرک قرار دیتا ہے جو ظلم کی انتہائی صورت ہے یعنی اندھیروں کی آخری شکل شرک ہے اور قرآن کریم سے ثابت ہے کہ یہ دونوں باتیں انسان کو اس آخری شکل تک بھی پہنچا دیتی ہیں اور انسان سمجھتا ہے کہ میں تو معمولی کھیل کو د اور تماشوں میں مصروف ہوں اس میں کون سا گناہ ہے مگر جب یہ دونوں باتیں خدا کی رضا سے باہر قدم رکھتی ہیں تو پھر ایسے ظلمات میں تبدیل ہو جاتی ہیں جن کا کوئی کنارہ نہیں ہے۔ بالآخر انسان کی کامل ہلاکت تک اسے پہنچا دیتی ہے۔ اس تعلق میں جو آیات میں نے سامنے رکھی ہیں ان کو ایک ایک کر کے آپ کے سامنے رکھنے سے پہلے میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ لعب اور لہو روزمرہ کی عام زندگی میں بھی گناہ کی شکل اختیار کرنے لگتی ہیں اور اکثر ہمیں دکھائی نہیں دیتا اور لازم ہے کہ آپ اپنے ماحول پر یہ نظر رکھیں کہ لعب کو اپنی حدود کے اندر رکھیں ، لہو کو اپنی حدود کے اندر رکھیں اور اپنی اولا دکوان حدود سے تجاوز نہ کرنے دیں۔ اس سے پہلے جو عبادات کے سلسلے میں میں نے خطبے دیئے تھے ان میں یہ بات کھولی تھی کہ مثلاً ایک انسان معصومانہ کھیل میں مصروف ہے، بچے ہیں وہ مصروف ہیں، بڑے ہیں وہ کوئی کھیل دیکھ رہے ہیں مثلاً کرکٹ کا کھیل جو گزرا ہے اور اسی قسم کے ٹینس کا زمانہ آتا ہے تو ٹینس میں مصروف ہو جاتے ہیں Boxings ہو رہی ہیں تو باکسنگ کے تماشے دیکھے جاتے ہیں ۔ وہ لوگ جو کھیل نہیں سکتے وہ کھیلتا دیکھ تو لیتے ہیں اور یہ ان کی کھیل ہے۔ مگر ادھر عین اس وقت جب کہ کوئی میچ اپنے انتہا کو پہنچا ہوا ہے اس وقت اذان کی آواز آتی ہے نماز کے لئے بلایا جاتا ہے کتنے ہیں جو اس معصوم کھیل میں مصروف رہنے کی وجہ سے نماز کا حق ادا کرنے کو فوقیت دیتے ہیں۔ کتنے ہیں جو بلاتر در اس ٹیلی ویژن کو بند کر دیں گے یا اس ریڈ یوکوختم کر دیں گے یا چھوٹے بچوں کو یا بیویوں کو جنہوں نے مسجد میں نہیں جانا ان کو بیٹھا چھوڑ کر مسجد کا رخ کریں گے۔ وہ جو ایسا کرتے ہیں ان کے کنارے محفوظ ہیں ، ان کی سرحدوں پر پہرے بیٹھے ہوئے ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جن کی سرحدیں اللہ کے فضل سے محفوظ ہیں اور ہمیشہ محفوظ رہیں گی۔ لیکن وہ لوگ جوان مصروفیتوں کے