خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 218
خطبات طاہر جلد 15 218 خطبہ جمعہ 22 مارچ 1996ء دھوکہ ہی تھا۔ اسی لئے قرآن کریم نے آخر پر یہ رکھا ۔ وَمَا الْحَيُوةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ کہ دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے محض دھوکے کی پیروی ہے۔ پس روشنی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے حض دھوکے کی پیروی ہے۔ اس روشنی کا دھو کہ سب سے خطر ناک دھوکہ ہے اور اس کی بھی تین منازل ہیں یا تین اس کی قسمیں ہیں جس اور ہیں یا طرح دوسرے اندھیرے کی جو بعد کی آیت میں بیان ہوا ہے تین قسمیں بیان فرمائی گئی ہیں اور اس اندھیرے میں بھی نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ظلمات کے اندر چلنے والے کا حاصل ہے یعنی ٹھوکریں کھانا، رستے سے ہٹ جانا، تباہی کے گڑھے میں جاپڑنا ، ہر قسم کے خطرات در پیش ہوں لیکن معلوم نہ ہو کہ وہ خطرات ہیں کیا ۔ یہی نتیجہ ہے روشنی کے اس سفر کا جو غرور کے نتیجے میں ہو، دھوکے کے نتیجے میں ہو اور یہ اندھیرا ایسا ہے جو نفس سے پیدا ہوتا ہے۔ یہی مضمون تھا جو میں نے آپ کو پچھلی دفعہ سمجھایا کہ ان تمام قسم کے اندھیروں کا جن کا اس آیت میں ذکر موجود ہے من شرور انفسنا سے تعلق ہے۔ تب ہی خدا نے ہمیں یہ دعا سکھائی کہ اے خدا ہمیں اپنے نفس کے شرور سے بچا کیونکہ اپنے نفس کا شر انسان کو دکھائی نہیں دیتا۔ سب سے زیادہ مخفی حملہ کرنے والا شیطان نفس کا شیطان ہے اور یہی شیطان غرور بھی کہلاتا ہے یعنی سب سے بڑا دھو کے باز اور اس کے پیدا کردہ اندھیروں کو خدا تعالیٰ نے غرور فرمایا یعنی دھو کے محض دھو کے، اس کے سوا ان کی کوئی حقیقت نہیں ۔ اب اس دوسری آیت کے حوالے سے جیسا کہ میں نے بیان کیا یہ مضمون کھل رہ مون کھل رہا ہے اور دوبارہ اب میں اسی مضمون کو پھر لیتا ہوں کیوں کہ لعب اور لو کا ایک ترجمہ تو میں نے آپ کے سامنے پیش کر دیا اور کچھ اس پر روشنی ڈالی مگر اسی آیت پر قرآن کریم دوسری جگہ مزید روشنی ڈالتا ہے۔ لعب اور لہو کا دھوکہ کیا ہے ۔ یہ کن کن منازل سے گزر کر کہاں تک پہنچاتے ہیں۔ پس ظلمات ثلاث ان اندھیروں کے اندر بھی تہہ بہ تہہ موجود ہیں۔ کہنے کو تو تین اندھیرے ہیں مگر آگے ان کی قسمیں اور پھر ہر قسم کے اندھیرے میں تہہ بہ تہہ اندھیروں کا وجود ملتا ہے اور قرآن کریم ان کے اوپر سے پردے اٹھاتا اور ایک ایک چیز کھول کر دکھا دیتا ہے تا کہ پھر ٹھو کر کھانے والے کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہے کہ میں نے لاعلمی میں ٹھو کر کھائی۔ پس اندھیروں کو بھی خدا دکھا رہا ہے یہ دیکھو یہ اندھیرے ہیں ان سے بچ کر گزرنا ہے۔ لعب اور لہو، کھیل اور تماشہ بظاہر دیکھنے میں معصوم سی باتیں دکھائی دیتی ہیں۔ بچے بھی کھیلتے ہیں، بڑے بھی کھیلتے ہیں اور تماشے بھی دیکھتے ہیں بسا اوقات ایسے تماشے انبیاء بھی دیکھ لیتے ہیں اور