خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 217 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 217

خطبات طاہر جلد 15 217 خطبہ جمعہ 22 مارچ 1996ء اللہ تعالیٰ کی عزت ، رفعت ، غیرت برداشت نہیں کرتی کہ وہاں اپنے نو رکوز بر دستی ٹھونس دے۔ ( خطبه جمعه فرمودہ 22 مارچ 1996ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ تلاوت کی : وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الثَّمَانُ مَاءً حَتَّى إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدُهُ شَيْئًا وَوَجَدَ اللَّهَ عِنْدَهُ فَوَقْهُ حِسَابَهُ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ (النور: 40) پھر فرمایا : سورۃ النور کی اس آیت کے حوالے سے میں نے اس آیت کو اس سے مشابہ ایک دوسری آیت کی مدد سے حل کیا اور ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ خطبے کا وقت ختم ہو گیا۔ دوسری آیت جو اس آیت کے مضمون کے بالکل مشابہ ہے اور اس تفصیل کو بیان فرما رہی ہے جس کا مجملاً یہاں ذکر موجود ہے کہ ایک ایسا انسان جو سراب کی پیروی کرتا ہے اسے بالآخر کچھ بھی نہیں ملتا سوائے اس کے کہ اپنے اعمال کی جزا کو اس وقت پاتا ہے جب کہ اس کی طلب، اس کی پیاس کی شدت اپنی انتہاء کو پہنچ چکی ہوتی ہے اور سوائے محرومی کے اور سزا کے کچھ بھی اس کے حصے میں نہیں آتا۔ یہ روشنی کا اندھیرا ہے جس کا میں نے ذکر کیا تھا کہ اسے ہم روشنیوں کے اندھیرے کہہ سکتے ہیں یعنی ایسا سفر جو بظاہر روشنی میں ہو، سفر کرنے والا یہ سمجھتا ہو کہ روشنی ہے مگر فی الحقیقت وہ اندھیرا ہی ہو، نتیجہ وہی ہو جواند ھیرا پیدا کرتا ہے۔ پس ایک انسان جب کسی چیز کو پانی سمجھ کر اس کی پیروی کرتا ہے تو بظاہر دیکھ رہا ہے مگر جب اس مقصد کو پاتا ہے جسے وہ اپنا مطلوب بنا کر اس کے پیچھے چلتا ہے تو اس وقت اس کو سمجھ آتی ہے کہ وہ