خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 207
خطبات طاہر جلد 15 207 خطبہ جمعہ 15 / مارچ 1996ء غصے میں۔یہ اندھیرے ہیں اور دکھائی روشنی دے رہی ہے۔دن دہاڑے کرکٹ کے میچ دیکھے جارہے ہیں، آگیں لگ رہی ہیں قتل عام ہو رہے ہیں، گندی گالیاں دی جارہی ہیں ،اب ہمارے ملک میں بھی پاگل پن، انڈیا میں بھی پاگل پن دونوں جگہ پاگل پن لیکن لعب کا پاگل پن ہے۔پاکستان میں یہ پاگل پن کہ اپنے کھلاڑیوں کو گالیاں دے رہے ہیں کہ آؤ تو سہی ہم تمہاری ٹانگیں توڑیں گے تمہیں قتل کر دیں گے تم کیوں ہارے ہو اور جھوٹے الزام سراسر کہ تم پیسے لے کے ہار گئے ہو۔یہ الزام اب دیکھیں ایک اندھیرے کی پیداوار ہے اور ایک اندھیرا ہے۔جس قوم میں رشوت ستانی عام ہو جس قوم میں پک جانا عام بات ہو جس قوم کے ممبرز آف پارلیمنٹ کے متعلق اس گروہ کے آدمی بھی دوسرے گروہ کے آدمی بھی جو خود ممبر پارلیمنٹ ہیں اخباروں میں کھلم کھلا بیان دیں کہ یہ سارے بکاؤ ہیں ، ہارس ٹریڈنگ ہو رہی ہے۔ہماری ڈیما کریسی اور ہارس ٹریڈنگ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔یعنی گھوڑوں کی منڈی ہے جو زیادہ پیسے دے آکے وہ گھوڑ ا خرید کے لے جائے یہ حال ہو جہاں، وہاں اپنے کھلاڑیوں بے چاروں پہ انہوں نے کون سا احسان کرنا تھا۔ساری عمر انہوں نے محنتیں کیں ، تکلیفیں اٹھائیں، ورزشیں کیں، ڈسپلن کئے ، بال پکڑ پکڑ کے ہاتھ کی انگلیاں توڑیں اور آخر پر ان کو بدلہ یہ ملا ہے کہ تم ضرور پیسے کھا گئے ہو جو ہار گئے۔اس پر بعض کھلاڑیوں نے استعفے دے دیئے ہیں۔انہوں نے کہا ہماری تو بہ جواب ہم کبھی اپنی قوم کے لئے کھیل گئے۔اور لعب کو آپ کچھ سمجھتے ہی نہیں قرآن کریم کہ رہا ہے بہت بڑی چیز ہے جو قوم لعب کی غلام بن جائے گی وہی پاگل ہو جائے گی۔وہ بھی اندھیرے پیدا کرے گی اور جو قوم لہو کی غلام ہو جائے گی وہ تو اور بھی زیادہ پاگل ہو جاتی ہے اور یہ دونوں چیزیں اگر اکٹھی ہو جا ئیں تو ساری قوم کا دماغ بالکل مختل ہو جاتا ہے وہ اندھیروں میں مبتلا ہوتی ہے جو اس کے نفس سے اٹھ رہے ہیں۔اب یہ دیکھیں یہ مضمون کس طرح سب دنیا کے اوپر کس صفائی کے ساتھ پورا آ رہا ہے مگر دیکھا اس لئے نہیں جاتا کہ نفس کا اندھیرا ہے اور نظر ہی نہیں آتا۔اپنا نفس انسان کو دکھائی نہیں دیتا یہ بھی بڑی مصیبت ہے اور اس کے اندھیرا کہلانے میں ایک یہ بھی حکمت ہے اپنا قصور نظر نہیں آرہا اپنی آنکھ کا تنکا بھی دکھائی نہیں دیتا جبکہ دوسرے کی آنکھ کا تنکا شہتیر بن کے دکھائی دے رہا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر۔غلط کہہ گیا اس لئے دماغ میں شہتر نہیں آتا کہ آنکھ میں شہتیر آہی نہیں سکتا۔مگر محاورے میں ہے بہر حال، تو تنکا دماغ میں آیا مگر بہر حال محاورہ