خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 200 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 200

خطبات طاہر جلد 15 200 خطبہ جمعہ 15 / مارچ 1996ء الله جو اندرونی اندھیرے ہوتے ہیں ان کی بھی دراصل تین ہی قسمیں ہیں۔تین قسموں کے اندھیرے ہیں جو انسانی نفس سے وابستہ ہیں اس سے پیدا ہوتے ہیں اور انسان کو اس دھوکے میں مبتلا کرتے ہیں اور آخری نتیجہ یہی ہے کہ یہ دنیا کی زندگی ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے۔اس کی مثال بیان فرمائی: كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُہ اس کی مثال ایسی بارش کی سی ہے جو کھیتی اگاتی ہے تو وہ کھیتی کفار کو بہت ہی اچھی معلوم ہوتی ہے ثُمَّ يَهِيجُ پھر وہ لہلہاتی ہے مگر پھر فَتَرَبهُ مُصْفَرًّا پھر وہ زرد ہو جاتی ہے ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا پھر وہ خشک ہو کر چورا چورا ہو جاتی ہے۔بیجان کہتے ہیں لہلہانے کو اور حرکت کو تو بھیج کا مطلب ہے وہ خوب نشو ونما دکھا کے ہوا کے ساتھ لہلہانے لگتی ہے لیکن بالآخر زرد پڑ جاتی ہے اور يَكُونُ حُطَامًا وہ خشک ہو جاتی ہے۔وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِید اور آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے جو اس سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔دنیا کی ناکامی اور نامرادی جن کاموں میں محنت کی تھی وہ دراصل نیک انجام کو نہ پہنچیں اور انسان کو جو تو قعات وابستہ تھیں وہ تو قعات پوری نہ ہوں یہ اس کھیتی کی سی مثال ہے جو شروع میں بہت اچھی لگتی ہے مگر بالآخر انجام اس کا ناقص اور خراب ہے۔فرمایا فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ آخرت میں عذاب شدید بھی ہے مگر ومَغْفِرَةٌ مِنَ اللهِ وَرِضْوَانُ مغفرت بھی ہے اور رضوان بھی۔مغفرت اورضوان کے لئے کوئی الگ بنیاد قائم نہیں فرمائی ، کوئی ایسا مضمون نہیں فرمایا کہ یہ تو عذاب والا مضمون تھا اب مغفرت اور رضوان والا مضمون یہ ہے۔وجہ یہ ہے کہ وہی دنیا کی زندگی مغفرت اور رضوان کا موجب بھی بن سکتی ہے اور وہی دنیا کی زندگی سزا اور عذاب کا بھی موجب بن سکتی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ وہ جو خدا سے دور ہیں ان کو دنیا کی زندگی فائدہ نہیں پہنچاتی اور بسا اوقات بد انجام مرتے ہیں اور اپنی محنتوں کے لطف نہیں اٹھا سکتے۔اگر اسی دنیا کی زندگی ان تین بلاؤں سے محفوظ رکھو جو اندھیروں کی بلائیں ہیں جن کا پہلے ذکر فر ما دیا گیا تو پھر وہی دنیا کی زندگی مغفرت کا موجب بھی بن سکتی ہے اور اللہ کے رضوان کا موجب بھی بن سکتی ہے کیونکہ نتیجہ وہی باتیں بنیادی ایک نتیجہ نکال سکتی تھیں دوسرا بھی نکال سکتی تھیں اس لئے الگ مضمون باندھنے کی بجائے اسی پہلے مضمون کے آخر پر دو نتیجے رکھ دیئے۔ایک آخرت میں عذاب شدید کا نتیجہ دوسرا مغفرت اور رضوان کا نتیجہ۔