خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 189 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 189

خطبات طاہر جلد 15 189 خطبہ جمعہ 8 / مارچ 1996ء تو امر واقعہ یہ ہے کہ گناہ گار جس کو آپ روشنیوں کی طرف بلاتے ہیں اور وہ یہ کہتا ہے کہ یہ روشنیاں ہیں تمہیں کیا اس سے۔مجھے نظر آرہا ہے۔روشنی ہے اس کا کچھ حساب تو ہے جو انجام کا رخدا اسے دیتا ہے۔بسا اوقات چھوٹے چھوٹے سفر در پیش ہوتے ہیں زندگی کے اندر اور وہ ہر سفر سراب کی طرح ہوتا ہے اس کا حساب ملتا چلا جاتا ہے اس لئے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری موت کے وقت اگر حساب ملا بھی اور آنکھیں کھلیں بھی تو کیا فائدہ۔میں جانتا ہوں کہ بسا اوقات ایسے لوگوں کو اپنے زندگی کے چھوٹے سفروں میں قرآن کریم کی اس آیت کی صداقت کا مزہ چکھنے کا موقع مل جاتا ہے۔روشنی سمجھتے ہوئے جاتے ہیں دھو کہ کھاتے ہیں پھر واپس آتے ہیں پھر اگلی دفعہ پھر دھو کہ کھاتے ہیں پھر واپس آتے ہیں۔اگلی دفعہ پھر دھو کہ کھاتے ہیں تو جو آخری حساب ہے وہ ان لوگوں کے لئے مشکل ہے جو وقتی حسابوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور سَرِيعُ الْحِسَابِ ان معنوں میں بھی ہے کہ ہر منزل پر تمہارے دھو کے کا حساب چکا دیا گیا تھا تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ آج اتنی دیر کے بعد بتایا 66 اب کیا فائدہ جب سارا وقت گزر گیا اب ہم کیا کہہ سکتے ہیں تو یہ وہی مضمون ہے قارعہ “ والا۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہم صرف آخری لمحوں میں تمہاری موت کے قریب آکے تمہیں جھنجوڑ کے جگاتے نہیں ہیں بلکہ پہلے بھی جگاتے رہتے ہیں یا تم پر قارعہ اترتی ہے۔ایسی بلا اور ایسی آفت یا ایسی تنبیہہ کہ جو تمہارے گھروں کے بڑے زور کے ساتھ دروازے کھٹکھٹاتی ہے اور یا ساتھ کے گھروں کے کھٹکھٹاتی ہے اور تمہیں آواز آرہی ہوتی ہے۔تم جانتے ہو کہ ایک بیدار کرنے والی آگئی ہے اس لئے خدا کو یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اب بتایا جب کہ وقت گزر گیا جب کہ کچھ باقی ہی نہیں رہا۔فرمایا ہم وہ حساب تو دیں گے مگر اس سے پہلے بھی تو ہم سَرِيعُ الْحِسَابِ تھے اور ان معنوں میں کہ جو جو حساب پہلے ہوتے رہے ان کی جزا بھی تمہیں ملتی رہی ہے۔سَرِيعُ الْحِسَابِ یہ دوسرے معنی ہیں جو یہاں اختیار کر لیتا ہے اور ان کی تائید وہی قارعہ والی آیت اور بعض دوسری آیات بتاتی ہیں کہ وقتا فوقتا انسان کو تنبیہات ملتی رہتی ہیں جان لیتا ہے کہ یہ بات غلط تھی مگر پھر جب وہ حرکت اسی طرح جاری رکھتا ہے تو ساری زندگی سرابوں کا سفر بن جاتی ہے اور اس سے بڑی ظلمات اور کیا ہوسکتی ہیں کوئی دکھانے والا دکھائے نظر نہ آئے یہاں تک کہ بالآخر خدا ہی اسے بتائے کہ یہ اندھیرے تھے یہ روشنیاں نہیں تھیں ان سے پناہ کی ضرورت ہے اور ان سے بچنے کی ضرورت ہے اور اس دھوکے سے