خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 188
خطبات طاہر جلد 15 188 خطبہ جمعہ 8 / مارچ 1996ء گیا۔بعض دفعہ آئندہ کے لئے بچانے کی خاطر نصیحتاً یہ بات کہنی پڑتی ہے مگر اس کے اندر کسی قسم کی تعلی نہیں ہونی چاہئے ورنہ کہنے والے کو نقصان پہنچ جائے گا ورنہ یہ مضمون تو شاعری میں عشق و عاشقی میں برابر چلتا ہے جہاں زیادہ پیار ہو وہاں کم طعنہ دیا جاتا ہے جتنا پیار بڑھے گا اتنا ہی طعن کی طرف طبیعت کم مائل ہوگی۔غالب کہتا ہے۔گئے وہ دن کہ نادانستہ، غیروں کی وفاداری کیا کرتے تھے تم تقریر، ہم خاموش رہتے تھے ے بس اب بگڑے پر کیا شرمندگی، جانے دوہل جاؤ قسم لو ہم سے گر یہ بھی کہیں، کیوں ہم نہ کہتے تھے کہتا ہے گئے وہ دن کہ نادانستہ غیروں کی وفاداری۔اب دیکھیں یاد دلانے میں بھی کتنی احتیاط برتی ہے غالب نے ذہین شاعر تھا اور فطرت کے باریک امور پر نظر تھی (دیوان غالب : 391) کہتا ہے جب تم کیا کرتے تھے ہمیں پتا ہے نا دانستہ کرتے تھے۔بھولے آدمی تمہیں پتا ہی نہیں تھا کہ غیر دشمن ہیں " کیا کرتے تھے تم تقریر بڑا اچھا آدمی ہے تم کیا روک رہے ہو مجھے کہتا ہے ہم خاموش رہا کرتے سنا کرتے تھے کہ ہاں ہوگا۔بس اب بگڑے پر کیا شرمندگی اب جب اس سے بگڑ گئی ہے تمہارے اوپر اس کا اصل حال کھل گیا ہے تو شرمندگی کی کوئی ضرورت نہیں ہم سے ہے قسم لے لو اگر جو یہ بھی کہیں ” کیا ہم نہ کہتے تھے، کبھی یہ بھی کہہ کے تمہیں جتائیں کہ ہم نے کہا نہیں تھا۔اب یہ غالب کے اندر بھی ایک کمال ہے فصاحت کا پہلے جب یہ جو کہہ دیا کہ ہم خاموش رہتے تھے تو پھر قسم بھی کھا سکتا ہے کہ ہم نہ کہتے تھے ہم نہیں کہیں گے۔کہا ہی نہیں مگر خاموشی بھی تو زبان رکھتی ہے۔مراد یہ نہیں ہے کہ ہم نے تم پر ظاہر نہیں ہونے دیا ، مراد یہ ہے کہ تم دیکھ لیتے تھے سمجھنا چاہئے تھا جب ایک آدمی کسی کی تعریفوں کے پل باندھ رہا ہو اور دوسرا ہوں“ بھی نہ کہے تو صاف پتا چلتا ہے کہ اس کے دل کو لگی نہیں بات۔کہتا ہے ہم خاموش رہا کرتے تھے، سنتے تھے یک طرفہ، کیا ضرورت تھی تمہاری مخالفت کرنے کی مگر پیغام پہنچ جاتا تھا اس لئے کہہ تو سکتے ہیں کہ ہم کہتے تھے مگر چونکہ منہ سے نہیں بولے اس لئے قسم کھاتے ہیں کہ اب نہیں کہیں گے، کیوں ہم نہ کہتے تھے۔