خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 187 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 187

خطبات طاہر جلد 15 187 خطبہ جمعہ 8 / مارچ 1996ء مگر میری پکڑ ہے بہت سخت۔تو حساب سے مراد یہ ہے کہ اس کے اس تمام سفر کے قدم قدم کا حساب اسے وہاں پورا دیا جائے گا۔تیز حساب سے مراد یہ ہے کہ ایک لمحہ بھی حساب کا ایسا نہیں گزرا جب کہ خدا غافل ہوا ہو اس کے حساب سے۔اس پر ایسے حساب کرنے والے مقرر ہیں جولح لمحہ بلکہ اس سے بھی کم عرصے کی اس کی نیتوں کی خرابیاں ، اس کی تمناؤں کے فساد، اس کے اعمال کے جو فتنے پیدا ہوتے ہیں لوگوں کو ضرر پہنچتے ہیں ان سب باتوں کا ایک ایک ضرر کا حساب خدا تعالیٰ نے رکھا ہوا ہے۔پس جو ساتھ ساتھ حساب کرتار ہے اس سے زیادہ سَرِيعُ الْحِسَابِ اور کیا ہو سکتا ہے۔حساب میں اگر تاخیر ہو جائے تو بعض دوسری چیزیں رہ جایا کرتی ہیں۔اللہ کی یادداشت سے تو کچھ نہیں رہ سکتا۔مگر یہ ایک بہت ہی حسین انداز ہے خدا کے حساب کے متعلق اطمینان دلانے کا کہ اس نے چھوڑا کچھ بھی نہیں کیونکہ جو ساتھ ساتھ حساب کر رہا ہے اس سے کچھ نہیں چھٹا کرتا۔جو کہتا ہے کل کر لیں گے ، پرسوں کر لیں گے اس سے کئی چیزیں رہ جایا کرتی ہیں۔تو فرمایا جو حساب دے گا وہ یقیناً پورا ہو گا اس میں کوئی کمی نہیں ہوگی کیونکہ وہ ساتھ ساتھ حساب کر رہا تھا ایک لمحہ کی تاخیر نہیں ہوئی۔پس ایسے حساب کرنے والے سے ڈرو جب وہ پورا حساب دے گا تو تمہارے گناہوں کی تمام تر پاداش تمہیں مل جائے گی۔یہ وہ اندھیروں کا سفر ہے جو روشنی کے نام پر کیا جا رہا ہے اور دنیا کی بھاری اکثریت جس روشنی میں سفر کر رہی ہے وہ یہ خوفناک اندھیرا ہے اور پہلے اس لئے رکھا کہ اس اندھیرے کا شعور تک بیدار نہیں ہوتا۔روشنی سمجھ رہا ہے انسان ، ساری عمر روشنی سمجھتا رہے گا کوئی کہنے والا بتائے گا آواز بھی دے گا تو کہے گا تم پاگل ہو گئے ہو مجھے پتا ہے میں کیا کر رہا ہوں وہ دیکھو سامنے پانی ہے اور پاگل کو جب یقین ہو جائے کہ میں جس طرف جارہا ہوں وہ ٹھیک ہے تو وہ پھر کسی کی بات سنتا ہی نہیں اس کو لاکھ سمجھائیں کہ تمہیں سمجھ نہیں آ رہی یہ نقصان دہ ہے، کہے گا جاؤ جاؤا پنا رستہ لو بڑے آئے ہو میرے ہمدرد مجھے تم سے زیادہ پتا ہے۔بالکل ٹھیک ہے میرے لئے۔ایسے کئی لوگ ہیں جو پھر بات نہیں مانتے جب وہ نقصان اٹھا لیتے ہیں پھر واپس آتے ہیں اس وقت دل کی شرم ہے جو روک ڈال دیتی ہے کہ ان کو کیا کہا جائے کہ کل تک تو تم ضد کر رہے تھے کہ اچھی چیز ہے اب آگئے ہو کہ نقصان پہنچ گیا۔یہ بھی ایک طبعی بات ہے اور انسان کو مناسب نہیں ہے کہ بے وجہ کسی کو اس کی غلطی یاد دلا کے اس کو رگڑے اور تکلیف پہنچائے کہ دیکھا تم کل تک کیا کہہ رہے تھے اب تمہیں پتا لگ