خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 186 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 186

خطبات طاہر جلد 15 186 خطبہ جمعہ 8 / مارچ 1996ء وہاں خدا کو نہیں دیکھتا۔فرماتا ہے دیکھتا تو خدا ہی کو ہے مگر حساب دینے کی غرض سے۔اس غرض سے کہ اسے سزا دے۔پس لقاء باری تعالیٰ بھی تو دو طرح کی ہے۔جانا تو خدا ہی کی طرف ہے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ ( البقرہ:157 )۔ہم اللہ ہی کے ہیں اللہ ہی کی طرف سے آئے ہیں اور لازماً اس کی طرف ہی لوٹیں گے مگر کیسے لوٹیں گے۔رحمان اور رحیم کے رستے سے یا مغضوب اور ضالین کے رستے سے۔اگر مغضوب اور ضالین کے رستے سے لوٹیں گے تو وہ ملاقات بہت بری ملاقات ہوگی مگر یہاں دیکھیں روشنی کا سفر بھی ہے اور روشنی تک پہنچا بھی رہا ہے مگر جیسے وہ روشنی کا تصور جھوٹا تھا ویسے اس روشنی تک پہنچ کر اسے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا اور سوائے گناہ کی پاداش کے اور کچھ اس کے حصے میں نہیں آیا۔فَوَقْهُ حِسَابَہ اللہ وہاں اسے اس کا حساب دے گا اور پورا پورا حساب دے گا۔وَاللهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ اور اللہ تعالیٰ بہت تیز حساب کرنے والا ہے۔اب تیز حساب اور اس موقع کا آپس میں کیا تعلق ہے۔اس سلسلے میں میں پہلے بھی روشنی ڈال چکا ہوں مگر بعض لوگوں کے خیال پھر بھی الجھے رہتے ہیں کیونکہ کئی دفعہ ایسا ہوا ہے خطبے میں پوری تفصیل سے بات کی لیکن ہو سکتا ہے اس میں میں مضمون ٹھیک بیان نہ کر سکا ہوں وہ لوگ جو خطبے میں موجود تھے پھر دوبارہ وہی سوال کرتے ہیں یہ بات نہیں بتائی آپ نے۔میں کہتا ہوں بتا تو چکا ہوں اور کس طرح بتاؤں مگر پھر بتا تا ہوں کوشش کرتا ہوں۔بعض دفعہ ایک انسان کے خیال بہک جاتے ہیں خطبہ سنتے سنتے اس کو کوئی گھر کی بات یاد آ جاتی ہوگی یا کوئی تجارت کا مسئلہ آگیا اس نے دماغ پر قبضہ کر لیا یا کوئی پروگرام بنانا ہے یا کسی بچے کی بیماری کی پریشانی ہے تو یہ انسان کے ساتھ اندھیرے اور روشنی چلتے رہتے ہیں ساتھ ساتھ کبھی اندھیرا آجاتا ہے تو اس لئے بتانا ضروری ہے اس لئے اس مضمون کو بھی میں دوبارہ سمجھاتا ہوں کہ سَرِيعُ الْحِسَابِ ہونے کے باوجود اتنا لمبا انتظار کہ ایک آدمی کا ہر قدم گناہ کی طرف اٹھ رہا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے منطقی انجام تک پہنچتا ہے اس تمام سفر کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سَرِيعُ الْحِسَابِ کہ میں حساب میں بہت تیز ہوں۔سَرِيعُ الْحِسَابِ سے مراد یہاں یہ نہیں ہے کہ جزا د ینے میں تیز ہوں۔یہ دو الگ الگ مضمون ہیں۔اگر جزا دینے میں تیز کہا جاتا تو پھر وہ آیت کہاں جائے گی جو کہتی ہے میں ڈھیل دیتا تیز ہوں وَأُهْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِى مَتِينُ (الاعراف:184) میں انہیں ڈھیل دیتا چلا جاتا ہوں