خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 182
خطبات طاہر جلد 15 182 خطبہ جمعہ 8 / مارچ 1996ء اس ملاقات میں کچھ تھوڑے سے بجھے بجھے دکھائی دے رہے تھے اور کسی سوچ میں تھے۔وہ مسئلہ یہ نکلا بعد میں کہ مجھ سے پہلے ان سے کوئی مقامی بڑا زمیندار ملنے آیا تھا اور وہ پنجابی کا بہت ماہر ، جو خاص جھنگ کی پنجابی ہے چوٹی کا زبان دان تھا اس نے کچھ دیر حضرت شاہ جہانپوری صاحب کی صحبت میں وقت گزارا اور آپ کی علمی باتیں اور ادبی چٹکلے اور عظیم الشان مضامین ان سے سنے جو ایک علم و عرفان کا بہتا ہوا سمندر تھا تو اتنا متاثر ہوا کہ جاتے ہوئے وہ ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ”بلا بدھی ہوئی اے بلا بدھی ہوئی اے کہ اندر تو ان لوگوں نے بلا باندھی ہوئی ہے اور یوں جھٹکتا جاتا تھا اور حافظ صاحب اس سے مغموم تھے کہ میں نے اتنی اچھی اچھی باتیں کیں مجھے جاتے جاتے بلا کہہ گیا۔میں نے کہا حافظ صاحب اس سے بڑا آپ کو Compliment دے ہی نہیں سکتا تھا۔یہ تو چوٹی کا کلام ہے کہ بلا بدھی ہوئی ہے۔تو حیرت انگیز چیز ہے اس کا اپنے دائرہ علم میں جس طرح اس کو حاصل ہے اس شان کا اور کوئی آدمی نہیں تو دیکھیں لفظ " بلا بھی کبھی کسی معنے میں کبھی کسی معنے میں مگر دونوں جگہ انتہا کے معنوں میں ہے۔پس ظلم پر بھی اور انتہا کی نیکیوں پر بھی بولا جاتا ہے۔پس اس پہلو سے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں ظلمت کا ذکر فر مایا ، دیکھیں کیسی عظیم کتاب ہے، حیرت انگیز پہلو ہے جو بالکل عقل پر ایک عالم حیرت ہی طاری کر دیتی ہے یعنی پہلے روشنی کی مثال سے ظلم کی بات شروع کی۔فرمایا ایک وہ ظلم ہے جو روشنی کے سفر کرنے والوں کے مقدر میں ہوتا ہے وَالَّذِيْنَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابِ بِقِيْعَةٍ يَحْسَبُهُ الثَّمَانُ مَآءَ کہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کئے ان کے اعمال تو ایسی سراب کی طرح ہیں بِقِیعَةٍ جو ایک ایسے چٹیل میدان میں ہو جہاں دور دور تک پانی دکھائی نہ دے۔يَحْسَبُهُ الثَّمَانُ مَآءَ پیاسا اس سراب کو پانی سمجھتا ہے جو روشنی کی تیزی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔اگر روشنی نہ ہو تو سراب کا بھی کوئی وجود نہیں۔مگر روشنی ہی کا ایک دھو کہ بھی ہے۔دیکھنے میں وہ روشنی ایک پانی کا ، ایک زندگی بخش پیغام لے کر آتی ہے مگر حقیقت میں موت کی طرف بلا رہی ہوتی ہے۔انہی معنوں میں قرآن کریم فرماتا ہے: كَذلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إلى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمُ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الانعام: 109) کہ اس طرح ہم نے ہر امت کو اس کے لئے ان کے اعمال خوبصورت کر کے دکھا دیئے ہیں۔کچھ زِيْنَةَ الْحَيُوةِ