خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 181
خطبات طاہر جلد 15 181 خطبہ جمعہ 8 / مارچ 1996ء ظلمتوں کا مضمون آپ کے سامنے کھولوں گا انشاء اللہ اور بتاؤں گا کہ کون کون سی احتیاطوں کی ضرورت ہے تا کہ نور آپ کے اوپر غالب رہے کبھی مغلوب نہ ہو سکے۔اس سلسلے میں سب سے پہلے تو میں سورہ نور ہی کی ایک آیت آپ کے سامنے رکھتا ہوں کیونکہ قرآن کریم جو ایک مکمل کتاب ہے جب ایک پہلو پر روشنی ڈالتا ہے تو دوسرے پہلو کو بھی ضرور بیان فرماتا ہے اور اسی سورت میں دونوں مضامین کھول دیتا ہے اور اس کی بکثرت مثالیں ملتی ہیں کہ ایک ہی سورت میں ایک مضمون کا ایک پہلو کھولا گیا ہے تو کسی اور جگہ اسی سورت میں اس مضمون کا دوسرا پہلو بھی کھولا گیا ہے اور جو اشتباہات کے احتمالات ہیں ان کو کلی دور کر دیا جاتا ہے۔پس ظلمات والی آیت بھی اسی سورۃ نور میں ہی ہے اور بتارہی ہے کہ ظلمات کی قسمیں کتنی ہیں اور کیسے کیسے ظلمات ہیں جن سے تمہیں واسطہ ہوگا۔اور سب سے پہلی بات جو حیرت انگیز ہے لیکن غور کرو تو حیرت انگیز نہیں رہتی ظلمت کی ایک قسم وہ ہے جس کا روشنی سے تعلق ہے اور پہلے اسی کا بیان ہوا ہے۔جیسے کہ دوسری جگہ قرآن کریم بعض ظلم کی باتیں کرتا ہے مگر وہ حد سے زیادہ روشنی کے معنوں میں کرتا ہے، بے انتہا روشنی ہو تو اس کو بھی ظلم کے تابع شمار فرمایا گیا اور صاحب نور کو ظالم قرار دے دیا گیا۔وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا (الاحزاب :73 )۔نور آسمانی کو کوئی اور مخلوق کوئی اور انسان اٹھا نہیں سکا، مگر دیکھ محمد مصطفی ﷺے انسان کامل آگے بڑھا اور اس نور کو اٹھا لیا۔اِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا یہ تو حد سے زیادہ ظلوم والا ہے، ظلموں والا ہے یا ظالم ہے تو ظالم کے مبالغے کا صیغہ ظلوم ہے بہت زیادہ ظلم کرنے والا لیکن وہ تعریف کا کلمہ ہے۔پس ایک ہی لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے اور بالکل ایک دوسرے سے الٹ معانی بن جاتے ہیں۔اب بُلا کا لفظ کوئی بہت ہی ذلیل، گھٹیا، خوفناک چیز ہو تو اس پر یہ ’بلا کا تصور اطلاق پاتا ہے۔ہم کہتے ہیں یہ بڑی بلا ہے لیکن بعض دفعہ نہایت ہی اعلیٰ درجے کی چیز ہو تو کہتے ہیں بلا چیز ہے، آج تو بلا کی خوشی پہنچی ، آج تو بلا کا دن چڑھا ہے کہ اتنی خوشیاں اتنی چیزیں اکٹھی ہو گئیں جو ہمیں تر و تازگی بخش رہی ہیں، ہمارے لئے طمانیت کے سامان لائیں۔علماء کے متعلق بھی بلا کا لفظ استعمال ہوتا ہے بلا کا عالم ہے۔چنانچہ میں نے ایک دفعہ مثال دی تھی کہ حضرت حافظ شاہ جہانپوری صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ان سے ایک دفعہ ملاقات ہوئی تو