خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 179
خطبات طاہر جلد 15 179 خطبہ جمعہ 8 مارچ 1996ء روشنی سمجھتے ہوئے جواندھیروں کا سفر ہے وہ سب سے خطرناک ہے۔ ( خطبه جمعه فرموده 8 مارچ 1996ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات تلاوت کیں: وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيْعَةٍ يَحْسَبُهُ الثَّمَانُ مَاءً حَتَّى إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَوَجَدَ اللَّهَ عِنْدَهُ فَوَقْهُ حِسَابَهُ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ أَوْ كَظُلُمَتِ فِي بَحْرِ أُخِي يَغْشُهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ ظُلُمَتُ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْيَرُ بِهَا وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُّوْرٍ پھر فرمایا : صلى الله 140:النور سورة النور آیت چالیس اور اکیالیس کی میں نے تلاوت کی ہے۔ اس سے پہلے قرآن کریم اور احادیث نبی ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات پیش کر کے نور کے مضمون پر میں نے چند خطبات دیئے تھے۔ اب نور کا برعکس ظلمت ہے اور ظلمتیں بھی کئی قسم کی ہیں اور پھر ظالم جسے گناہ گار کہا جاتا ہے یا حد سے بڑھا ہوا گناہ گار ظالم کہلاتا ہے اس کا بھی ظلمت سے تعلق ہے۔ تو نور تو آتے آتے آئے گا مگر جب ظلمت جاتے جاتے جائے گی اور دونوں بیک وقت اکٹھے نہیں ہو سکتے ۔ اس لئے اس مضمون کو نسبتاً آسان کرنے کے لئے کہ نور کی محبت پیدا ہوئی ، اس کے لئے دل میں ایک تڑپ اٹھی کہ ہم بھی صاحب نور ہو جائیں۔ یہ تو ہر سننے والے کے دل میں طبعاً یہ