خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 177 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 177

خطبات طاہر جلد 15 177 خطبہ جمعہ یکم مارچ 1996ء صورت میں ان کی بھی کوئی حیثیت محمد رسول اللہ اللہ کے نور کے مقابل پر نہیں۔فرماتے ہیں: قمر میں نہیں تھا۔آفتاب میں بھی نہیں تھا۔وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔وہ لعل اور یا قوت اور زمر داور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔غرض وہ کسی چیز ارضی و سماوی میں نہیں تھا۔صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں اب انسان سے مراد یہاں رسول اللہ ﷺہ نہیں ہیں، یاد رکھیں۔وہ تمام کامل وجود جن کے متعلق فرمایا وہ نور سے مرصع ہوتے ہیں ان پر وحی اترتی ہے یعنی منجملہ انبیاء سب کو آپ کامل بیان فرما رہے ہیں۔د یعنی انسان کامل میں۔جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ وارفع فرد ہمارے سیڈ یعنی تمام کاملین میں سے سب سے اکمل۔تمام انبیاء بلند ہیں مگر بلند تر ان سے۔سب سے بڑی شان والے ہیں مگر اس شان کا حامل جیسے محمد رسول اللہ لیے ہیں ان میں اور کوئی نہیں تھا۔علی اور ارفع فرد ہمارے سید و مولا سید الانبیاء سید الاحیاء محمد مصطفیٰ پائے ہیں۔ے ہیں۔سو وہ نو ر اس انسان کو دیا گیا اور حسب مراتب اس کے تمام ہم رنگوں کو بھی پس وہ جو درجہ کمال والے تھے وہ حسب مراتب ہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کے ہم رنگ قرار و یعنی ان لوگوں کو بھی جو کسی قدر روہی رنگ رکھتے ہیں“ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 161،160) یہاں اُمتِ محمدیہ کے لئے بھی ایک خوشخبری ہے۔اس کا ایک اشارہ سابقہ انبیاء کی طرف بھی ہے اور ایک اشارہ آنے والے امت کے افراد کی طرف بھی ہے جو کسی قدر وہی رنگ رکھتے ہوں یعنی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت کے نور سے آپ منور ہونے شروع ہوں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر بھی نور ضرور اترے گا اور آپ بھی اس مقام پر کھڑے ہوں گے کہ ایک طرف سے اذن الہی کے سامنے اپنا سر جھکا رہے ہوں گے اور دوسری طرف اذن الہی تمام دنیا کی گردنیں آپ