خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 166
خطبات طاہر جلد 15 166 خطبہ جمعہ یکم مارچ 1996ء وو۔۔۔پھر آنحضرت اللہ کے فہم و ادراک و عقل سلیم اور جمیع اخلاق۔فاضلہ جبلی و فطرتی کو ایک لطیف تیل سے تشبیہ دی“ اب یہ آپ کو سمجھانا پڑے گا کیونکہ اس میں سے کچھ نہ کچھ سب نے اخذ کرنا ہے اگر سمجھ نہیں آئے گی تو پھر لیں گے کیا۔ایک چیز ہے دل۔دل نیتوں کی آماجگاہ ہے اور میلانات رکھتا ہے جو طبعا ہر دل میں موجود ہیں۔اگر نیتیں بگڑیں تو دل اسی حد تک میلا ہوتا چلا جاتا ہے۔اگر میلانات غلط ہو جائیں تو وہ دل نور کی حفاظت کا اہل نہیں رہتا اور اس کے غلط استعمال کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔پس اس پہلو سے دل سے سفر کا آغاز فرمایا کہ دل، جہاں تک حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا تعلق ہے آپ کا دل روشن اور مصفی تھا کہ اس میں فطرتا ہی کسی غیر اللہ کی طرف کوئی میلان نہیں تھا۔تکدر نہیں تھا۔یعنی غیر کا سایہ بھی آپ کے دل پر نہیں پڑا تھا۔کوئی خوف نہیں تھا جس نے آپ کے دل کو میلا کر دیا ہو۔پس لا حول ولا قوۃ کی یہ غیر ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضور کے دل کے تعلق میں بیان فرمائی۔کوئی خوف غیر اللہ کا آپ کے دل پر نہیں تھا، کوئی تکد رنہیں تھا، کوئی محبت خدا کے سوا کسی اور چیز کی نہیں تھی۔یہ وہ دل ہے جو نور کی آماجگاہ بنانے کے لئے یعنی نور کامل کے اظہار کے لئے چنا گیا اور دوسری چیز اس کے لئے کیا ضروری تھی۔صرف دل کافی نہیں ہے۔وہ چیز یہ ہے۔فہم اور ادراک عقل بھی ہونی چاہئے ، باتوں کو صحیح سمجھنے کی صلاحیت بھی ہونی چاہئے محض نو راپنی ذات میں دل پر نازل ہو تو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچائے گا اگر اسے سمجھنے کی ، اس نور کے باریک لطائف تک نظر پہنچانے کی استطاعت نہ ہو۔تو فرمایا اس کے بغیر کچھ بن نہیں سکتا پر آنحضرت ﷺ کو اس دل کے بعد فہم و ادراک عقل سلیم عقل سلیم اس عقل کو کہتے ہیں جو تعصب سے پاک ہوکر سوچتی ہے۔جو کسی دلی خواہش یا کسی اور مقصد کی خاطر اپنے غور کو گندہ اور میلا نہیں کرتی بلکہ جب بھی غور کرے گی ہر رجحان ، ہر میلان ، ہر تعصب سے بلند ہو کر کرے گی اسے عقل سلیم کہا جاتا ہے۔فرمایا عقل سلیم عطا فرمائی گئی آپ کو اور جمیع اخلاق فاضلہ جتی و فطرتی وہ تمام اخلاق فاضلہ جو آپ کی بناوٹ سے تعلق رکھتے تھے یا اس پاک فطرت سے تعلق رکھتے ہیں جو ہر ایک کو دی جاتی ہے ان اخلاق فاضلہ کو اور اس عقل کو اس دل کے بعد ایک لطیف تیل سے تشبیہہ دی۔پس یہ عقل ہے جو دل میں وہ دیا روشن کرتی ہے جس دیئے کے روشن ہونے سے خدا کا نور پھیلتا ہے اور خدا کے نور کا شعلہ دل میں 66