خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 161 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 161

خطبات طاہر جلد 15 161 خطبہ جمعہ یکم مارچ 1996ء والا اس کے سامنے مٹ جاتا ہے نہ چاند کا وجود رہتا ہے ، نہ ستارے چمکتے ہیں کوئی اور نور دنیا کا اس کے سامنے چمکنے کی مجال نہیں رکھتا۔روشنیاں جو انسان بناتا ہے وہ بھی بجھ جاتی ہیں یا بجھا دی جاتی ہیں اگر نہیں بجھتیں تو نور دینا چھوڑ دیتی ہیں۔پس یہ وہ نور ہے جس کی طرف ہم نے تمام دنیا کو بلانا ہے اور اسی کا ہمیں اذن دیا گیا ہے۔ایسے نور کیسے پیدا ہوتے ہیں اور کیسے ہم اس نور سے حصہ پاسکتے ہیں اس مضمون کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات آپ کے سامنے رکھے تھے جو ابھی پایہ تکمیل کو نہیں پہنچے تھے یعنی جو اقتباسات میں نے چنے تھے ان کا مضمون جاری تھا۔پہلے اقتباسات ہیں جو پچھلے خطبے میں ، اس سے بھی پہلے آپ کے سامنے پڑھتا رہا ہوں ان کا مرکزی نقطہ نبوت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اصل نور اور کامل نور خدا کے کامل بندوں کو دیا جاتا ہے اور اس نور میں غیر نبی شریک نہیں ہے۔انبیاء کی ساخت ایسی ہے کہ ان کو خدا تعالیٰ نے اس کامل نور کا محافظ اور امین بنانے کی خاطر پیدا فرمایا ہے۔اس لئے ان کے اندروہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جو نور کو اپنانے اور اس کو بغیر نفسی میل کے چمکا کر باقی دنیا کو دکھانے کی طاقت بخشتی ہیں، وہ صلاحیتیں ان کے اندر موجود ہیں اور اس نور وحی کو جو انبیاء کے ساتھ خاص ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بعض مثالیں دے دے کر سمجھا رہے ہیں اور یہ واضح فرما ر ہے ہیں کہ یہ نور صرف نبیوں کے لئے ہے غیر نبی اس میں شریک نہیں ہوسکتا۔یہ اقتباس جو بقیہ حصہ ہے میں آپ کے سامنے پڑھ کے سناتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں۔”وہی ہے جس نے ہر ایک چیز کو ظلمت خانہ عدم سے باہر نکالا اور خلعت وجود بخشا۔بجز اس کے کوئی ایسا وجود نہیں ہے کہ جو فی حد ذلتہ واجب اور قدیم ہو۔“ که خود صرف ایک اللہ ہی کی ذات ہے جس نے انسان کو ظلمت خانہ قدیم سے باہر نکالا یعنی عدم کا نام ظلمت خانہ رکھا ہے فرمایا ہے خدا کے سوا ہر طرف تاریکی ہے یعنی عدم ہے اور وہی وجود ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ سے عدم سے وجود پیدا کرتا ہے اور عدم سے وجود میں آنا ایک نور کو چاہتا ہے کیونکہ عدم کو ظلمات سے تشبیہ دی ہے۔پس ایک وہ نور ہے جو فطری نور ہر انسان کو ، ہر وجود کو ملتا ہے اور اس میں درحقیقت انسان اور غیر انسان ، زندہ اور مردہ کی کوئی تمیز نہیں ہے بغیر نور کے وجود کا تصور ہی ممکن نہیں کیونکہ ہر وجود نور سے عدم سے نکل کے وجود کی روشنی میں آیا ہے اس لئے جب وہ اندھیرے