خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 132 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 132

خطبات طاہر جلد 15 132 خطبہ جمعہ 16 فروری 1996ء وہ پردہ اٹھا رہی ہے۔تم اپنے اندر ایک ایسی تبدیلی پیدا کرو جو واقعہ تمہاری زندگی تبدیل کر دینے والی ہو تو یا درکھو تمہارے حق میں آسمان سے یہ تقدیر نازل ہو گی کہ تم نے دیانت داری سے فیصلہ کیا ہے تو فیق تمہیں نہیں مل رہی خدا تو فیق عطا فرمائے گا۔واقعہ تمہارے ارادوں کو عملی طور پر تمہاری زندگی میں رائج ہونے ، ثابت ہونے ، اطلاق پانے کی توفیق بخشے گا اور لَيْلَةُ الْقَدْرِ کی بخشش اس کے بعد ایک نیا آدمی پیدا کرتی ہے۔ویسا آدمی پیدا کرتی ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس کی بخشش ہو جائے وہ پھر وہ تو نہیں رہتا جو پہلے تھا۔فرمایا وہ تو ایسا ہوتا ہے جیسے ماں نے ابھی جنا ہے۔ایک نوزائیدہ بچے کی طرح ہو جاتا ہے جو کوئی داغ لے کے نہیں آیا بلکہ ایک فطرت سلیمہ، پاک اور نیک فطرت اور نیک مزاج لے کر پیدا ہوا ہے۔تو آپ یہ کہہ دیں کہ عفو ہو گیا ، رات نصیب ہوگئی اور باقی زندگی اسی طرح پہلے کی طرح ہو تو یہ ایک جھوٹ ہے جس میں آپ زندگی بسر کر رہے ہوں گے۔خوش فہمیاں ہیں اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔پس یا درکھیں کہ آنحضرت ﷺ نے جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ یہ دعا کرنا تو اس سے مراد عفو کے عام معنی نہیں بلکہ وہ عفو مراد ہے جس کی تشریح خود رسول اللہ ﷺ فرما رہے ہیں کہ عضو ہو گی تو نئی زندگی پاؤ گی۔عفو خدا کی طرف سے نصیب ہوگی تو گویا تم نئی پیدا ہوئی ہو تم پر کوئی داغ باقی نہیں رہے گا، ایک خلق آخر بن کر تم دنیا میں ظاہر ہوگی۔یہی مضمون ہے جو ہر طلب کرنے والے کے لئے ہے۔جو راتیں باقی ہیں اگر لَیلَةُ الْقَدْرِ ان میں ہے تو پھر اس توجہ سے اس دعا کو مانگیں اور اس کے معانی کو سمجھتے ہوئے اس دعا کو مانگیں۔بخاری کتاب فضل ليلة القدر میں ایک اور روایت ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے کچھ صحابة ولَيْلَةُ الْقَدْرِ خواب میں رمضان کے آخری سات دنوں میں دکھائی گئی۔اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب رمضان کے آخری ہفتے پر متفق ہیں اس لئے جو شخص لَيْلَةُ الْقَدْرِ کی تلاش کرنا چاہے وہ رمضان کے آخری ہفتے میں کرے۔(صحیح بخاری کتاب فضل ليلة القدر باب التماس ليلة القدر في السبع الأواخر ) یہاں ہفتے سے مراد سات دن ہیں۔آخری سات راتوں میں اور آخری دس راتوں کی محنت اپنی جگہ لیکن لَيْلَةُ الْقَدْرِ کو آخری سات راتوں میں مخصوص کرنا آنحضرت ﷺ کی اپنی رویا