خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 127
خطبات طاہر جلد 15 127 خطبہ جمعہ 16 فروری 1996ء چونکہ اخلاص کے ساتھ ایسا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ جب جان لیتا ہے کہ واقعہ ان کے دلوں میں پاک ارادے ہیں ، یہ چاہتے ہیں کہ بدیوں سے چھٹکارا حاصل کر لیں چاہتے ہیں کہ بدیوں سے رہائی حاصل کر کے خدا تعالیٰ کی اطاعت کی آزادی کے دور میں داخل ہو جا ئیں تب آسمان سے تقدیر اترتی ہے۔یہ ہے يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيمِ ہر بات کا فیصلہ ہوتا ہے مگر فیصلہ حکمت والا ہوتا ہے حکمت سے عاری نہیں ہوتا۔پس اب سوال یہ ہے کہ یہ جو راتیں لَيْلَةُ الْقَدْرِ کی راتیں کہلاتی ہیں، جمع کا صیغہ میں اس لئے استعمال کر رہا ہوں کہ کوئی پتا نہیں کہ کون سی رات وہ رات ہے ، ان راتوں میں ہمارے حق میں ، انفرادی طور پر ہم سب کے حق میں کون کون سے فیصلے ہوں گے، اگر بغیر فیصلوں کے گزر گئے تو جیسے تھے ویسے ہی رہے اور بڑی محرومی ہے کہ کسی عظیم دربار میں آپ پہنچیں اور اپنے خالی دامن کو پیش کر کے اس سے کچھ مانگیں اور کچھ بھی نہ ملے۔ساری رات چلاتے رہیں مگر کشکول خالی کا خالی رہے اور اس میں کچھ بھی نہ اترے۔جو اترنا ہے اس کے لئے یہ شرطیں ہیں جو میں آپ کے سامنے قرآن کے حوالے سے رکھ رہا ہوں کہ آپ کو اس رات میں در حقیقت کچھ فیصلے کرنے چاہئیں کیونکہ اس کی برکتیں بارش کی طرح خود بخود نہیں اترتیں۔ان برکتوں کے مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے اللہ فرماتا ہے کہ ان برکتوں کا تعلق کچھ فیصلوں سے ہے اور وہ تقدیر خیر وشر کے فیصلے ہیں۔ان فیصلوں کا تعلق تمہاری اپنی ذات سے ہے۔تمام تر اپنے نفوس میں پاک تبدیلیاں لے کر اس رات حاضر ہو گے تو یاد رکھو کہ تمہارے حق میں آسمان سے ویسی ہی تقدیریں جاری کی جائیں گی۔اگر تم خالی خولی لفظوں کے تحفے لے کر آؤ گے تو خالم خولی لفظ تمہارے اوپر لوٹا دئیے جائیں گے جیسے خالی وہ گئے تھے خدا کے حضور ویسے ہی خالی اتر آئیں گے۔تو دراصل لَيْلَةُ الْقَدْرِ ہے جس کا مضمون رمضان میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔پس جہاں تک زمانے کا تعلق ہے میں پچھلی دفعہ، پچھلے رمضان میں اس پر روشنی ڈال چکا ہوں۔اب میں انفرادی پہلو کو نمایاں کر کے آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے زمانہ خیر و شر کی بات کی ہے پورے زمانہ نبوی کو ایک لَيْلَةُ الْقَدْرِ قرار دیا ہے وہاں یہ بھی فرمایا کہ ایک رات واقعہ بھی ایسی آتی ہے جو ساری زندگی سنوار دیتی ہے یا اگر