خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 5
خطبات طاہر جلد 15 5 خطبہ جمعہ 5 جنوری 1996ء حرام کی کمائیوں میں سے مجھے پیش کرو۔وہ مضمون بحث میں شامل ہی نہیں۔پس جن کو خدا نے دیا ہے شیطان نے نہیں دیاوہ بڑے بے وقوف ہوں گے اگر شیطان کے ڈرانے سے ڈر جائیں اور خدا کی راہ میں جس نے ان کو عطا فرمایا ہے خرچ کرنے سے پیچھے ہٹ جائیں اور شیطان اس کے ساتھ کیا کہتا ہے۔یہ بہت ہی گہرا نفسیاتی مضمون ہے کہ فقر سے ڈراتا ہے لیکن فحشاء کا حکم دیتا ہے اور فحشاء وہ زندگی ہے جس میں انسان کو بے حد خرچ کرنا پڑتا ہے اور شیطان کا جھوٹا ہونا اسی سے ثابت ہو جاتا ہے کہ تمہیں فقر سے ڈراتے ہوئے ایسی باتوں کے شوق لگا دیتا ہے، ایسی تمناؤں کو بھڑکا دیتا ہے جو بہت مہنگی ہوتی ہیں اور تمہاری زندگی کی عام ضرورتوں کو پورا کرنے کے بعد جو کچھ بچتا ہے اس سے زیادہ خرچ کرو تب بھی تمہاری وہ خواہشیں جو فحشاء سے تعلق رکھتی ہیں پوری نہیں ہوسکتیں۔تو شیطان کی دھوکہ بازی اور اس انسان کی جو اس دھوکے میں آئے ان کی عقل کا پورا پول کھل جاتا ہے اس سے۔اگر وہ تمہارا پیسہ بڑھانا چاہتا ہے تو فحشاء کی طرف کیوں لگاتا ہے تمہیں، کیوں کہتا ہے کہ بہت مہنگی کاریں خرید و تو پھر تمہیں تسکین ملے گی۔کیوں کہتا ہے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ عیاشی کے سامان مہیا کردیا حاصل کرو تب تمہیں صحیح زندگی کا سکون ملے گا اور ایک دوسرے سے دکھاوے میں آگے بڑھو ایسے اخراجات کرو جس سے تمہاری ظاہری طور پر قوم میں یا برادری میں ناک قائم رہ جائے اور اندر سے سب کچھ کٹ جائے اور سب کچھ ختم ہو جائے۔یہ تعلیم جو فحشاء کی تعلیم ہے یہ ثابت کر رہی ہے کہ شیطان کو تمہارے اموال میں کوئی دلچسپی نہیں ہے تمہارے حق میں کوئی دلچسپی نہیں ہے وہ تمہارا دشمن ہے اور دشمنوں والے وساوس میں تمہیں مبتلا کر دیتا ہے۔اللہ اس کے مقابل پر کیا کہتا ہے شیطان تمہیں فقر کا اور فحشاء کا حکم دیتا ہے اور اللہ فرماتا ہے يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلا اور اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے مغفرت کے وعدے کرتا ہے۔پس انفاق فی سبیل اللہ کا تعلق ایک مغفرت سے بھی ہے اور یہ بہت ہی اہم تعلق ہے جس کو آخر پر بیان فرمایا ہے۔وہ پہلے تعلقات جو میں نے بیان کئے ہیں قرآن کریم کی اس آیت کی روشنی میں ان پر یہ مستزاد ہے کہ یاد رکھو وہ تمہیں چیزیں تو ملیں گی ہی مگر تم اتنے گناہ گار ہو کہ اگر محض نیکیوں اور گناہوں کا آپس میں حساب تکڑی کے تول کیا جائے تو تمہاری بخشش کے سامان بہت مشکل ہیں اور یہ امر واقعہ ہے کہ اگر با قاعدہ ناپ تول کر حساب ہو کہ نیکیاں کتنی ہو ئیں اور بدیاں کتنی تو بھاری اکثریت انسان کی