خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 1004
خطبات طاہر جلد 15 1004 خطبہ جمعہ 27 دسمبر 1996ء نظام کو جو بیرونی طاقت مل رہی ہے باہر سے ٹیکہ مل رہا ہے یہ کوشش کریں کہ آپ اپنے پاؤں کھڑے ہو کر اس مدد سے متبر اہوجا ئیں اس مدد کے محتاج نہ رہیں۔یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ قادیان ہی نے تو سب دنیا کو دینی ضرورتوں کے لحاظ سے پالا ہے۔ہندوستان ہی کو لمبے عرصے تک یہ فخر حاصل رہا ہے کہ جب باہر کی دنیا چندوں سے تقریباً نا آشنا تھی تمام دنیا کی ضرورتیں ہندوستان پوری کرتا تھا۔پھر پاکستان نے ہجرت کے بعد یہ عظیم خدمت اپنے ہاتھوں میں لی، خوب سنبھالا ، خوب حق ادا کیا۔تو ہندوستان کے تعلق میں چونکہ پرانی غیرتیں ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہندوستان میں پیدا ہونا ہے اس محبت کے تقاضے کے طور پر میری دلی خواہش یہی رہتی ہے کہ ہندوستان کو پھر وہ پرانی عظمتیں نصیب ہو جائیں۔تو اس پہلو سے وقف جدید بھی ایک ذریعہ بن گئی ہے ہندوستان کی پرانی کھوئی ہوئی عظمتوں کو واپس حاصل کرنے کا تو اس کی طرف آپ متوجہ ہوں اور اللہ تو فیق عطا فرمائے کہ آپ کے اندر کثرت کے ساتھ وہ ولی پیدا ہو جائیں جن ولیوں کا حضرت مصلح موعودؓ نے وقف جدید کے تصور میں ذکر فرمایا ہے۔وقف جدید کا تعلق ولایت سے حضرت مصلح موعودؓ نے رکھا اور جو نقشہ کھینچا ہے اپنے اس روحانی خواب کا وہ یہ ہے کہ جگہ جگہ بڑے بڑے اولیاء اور قطب پیدا ہورہے ہیں۔دیہات میں اور گاؤں گاؤں میں رازی پیدا ہو رہے ہیں۔تو وقف جدید کی تحریک تو بالکل عمومی ، عام سی ایک دنیا کی نہیں دین کے لحاظ سے پسماندہ دیہات کی تحریک تھی مگر جو مقاصد تھے وہ اتنے بلند تھے کہ گاؤں گاؤں میں رازی پیدا ہوں، گاؤں گاؤں میں اولیاء اللہ اور قطب پیدا ہونے شروع ہو جائیں اور فرمایا آغاز ہی میں آپ نے جو نقشہ کھینچا اپنے دل کا، فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ وقف جدید کے ذریعے گاؤں گاؤں اولیاء اللہ پیدا ہوں اور اس وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ میں خود نگرانی کروں اور باقی تنظیمیں ہیں ان کی طرح نہیں بلکہ براہ راست معلمین پر نظر رکھوں، ان سے رابطہ رکھوں اور جب تک صحت نے توفیق دی آپ بہت حد تک یہ کام کرتے رہے پھر وہ توفیق نہ رہی کیونکہ بہت بیمار ہو گئے تھے مگر یہ آپ کے ارادے اور خواہشات تھیں۔پس اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ صدیقیت کا جو ذکر میں نے کیا ہے قرآن کریم کی آیت میں، یہ وہی صدیقیت والا نقشہ ہے جو حضرت مصلح موعودؓ کے ذہن میں پیدا ہوا۔وہی خواب ہے جو