خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 1003
خطبات طاہر جلد 15 1003 خطبہ جمعہ 27 دسمبر 1996ء کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کی آپس کی دوڑ میں اب ان کی کیا پوزیشن ہے۔راولپنڈی فرسٹ ہے جو میرے لئے بہت تعجب کی بات ہے کیونکہ میں سمجھا کرتا تھا کہ راولپنڈی ان باتوں میں کافی پیچھے ہے مگر معلوم ہوتا ہے کوئی نئی تحریک وہاں اٹھی ہے جس کی وجہ سے خدا کے فضل سے راولپنڈی کی جماعت کا یہ اعزاز مل گیا کہ وہ سارے پاکستان میں ضلعی لحاظ سے اول آئی ہے اور سیالکوٹ نمبر دو۔یہ بھی تعجب کی بات ہے کیونکہ سیالکوٹ تو کافی نکما ہو گیا تھا بے چارہ۔اب معلوم ہوتا ہے اٹھ رہے ہیں کچھ آگے بڑھ رہے ہیں۔جو سیالکوٹی میرے سامنے بیٹھے ہیں وہ مسکرا رہے ہیں کہ شکر ہے ہماری بات بھی آگئی کہیں۔فیصل آباد نمبر تین پر ہے اور اسلام آباد نمبر چار پر۔اسلام آباد کے لئے قابل شرم ہے کیونکہ بڑی منظم جماعت اور مالی لحاظ سے بھی اچھی متوسط جماعت ہے۔فیصل آبادان کو پیچھے چھوڑ جائے ، سیالکوٹ پیچھے چھوڑ جائے یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔گوجرانوالہ ماشاء اللہ ہمت کر کے آگے آیا ہے پانچویں نمبر پر آ گیا ہے۔گجرات چھٹے نمبر پر ہے اور سرگودھا ساتویں نمبر پر اور شیخوپورہ آٹھویں نمبر پر اور کوئٹہ نویں پر اور عمر کوٹ سندھ دسویں نمبر پر۔یہ جو اضلاع ہیں نچلے مرتبے کے اضلاع ہیں ، ان میں میں سمجھتا ہوں کہ ابھی بہت گنجائش موجود ہے۔سیالکوٹ میں بھی ہے، فیصل آباد میں بھی ہے، اسلام آباد میں تو ہے ہی ، گوجرانوالہ گجرات وغیرہ یہ سارے وہ اضلاع ہیں جو میں نظری طور پر جانتا ہوں کہ جتنی خدا نے ان کو تعداد عطا کی ہے احمدیوں کی اور جو مالی توفیق بخشی ہے عین اس کے مطابق چندے دکھائی نہیں دے رہے۔دفتر اطفال میں لا ہور خدا کے فضل سے اول آ گیا ہے، ربوہ دوم ہے اور کراچی سوم۔یہ تو ہے وقف جدید کی رپورٹ۔میں اس وقت ہندوستان کی جماعتوں کو جو اس وقت جلسے میں بطور خاص اس جمعہ میں حاضر ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہ جمعہ تو بالخصوص ہمارے لئے وقف ہے ان کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ وقف جدید کے کام کو آپ وہاں بڑی تیزی سے بڑھا ئیں اور منظم کریں کیونکہ آپ کی اکثر تبلیغ اس وقت وقف جدید کے ذریعے ہو رہی ہے اور بہت سی پھیلتی ہوئی نئی ضرورتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید نے سنبھال رکھا ہے تو اس کو اہمیت دیں اور جن اضلاع میں آپ کی تبلیغ کے لحاظ سے کمزوری ہے ان کی فہرست میں پڑھنا نہیں چاہتا اس وقت ان کی طرف متوجہ ہوں اور وقف جدید کے