خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 4
خطبات طاہر جلد 15 4 خطبہ جمعہ 5 جنوری 1996ء ہو۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ اور جان لو کہ اللہ تو غنی ہے اور قابل تعریف ہے۔ غنی ہونے کے لحاظ سے اس کو تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔ حمید ہونے کے لحاظ سے اس کو خبیث چیز پہنچ ہی نہیں سکتی ۔ جو گندی چیز کسی کو دے گا، جو صاحب حمد ہے اس کو گند تو نہیں پہنچ سکتا۔ نا ممکن ہے۔ اس کو وہی چیز ملے گی جو قابل حمدہ ہو، تعریف کے لائق ہو۔ تو تمہارا تعلق خدا سے کٹ جائے گا بجائے اس کے کہ خدا سے تمہارا تعلق قائم ہو۔ اس کے بعد ایک اور بڑا لطیف مضمون بیان فرمایا کہ تم جب ہاتھ روکتے ہوا چھی چیزیں پیش کرنے سے تو اس کے پیچھے کوئی بات ہے اور بات یہ ہے کہ شیطان تمہیں ایسے رستے پر ڈال رہا ہے جس رستے پر پڑ کے خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے تم محروم ہوتے چلے جاؤ گے اور پھر بھی تمہاری آرزوئیں پوری نہیں ہوسکیں گی۔ تمہارے نفس کی پیاس کبھی بجھ نہیں سکے گی اور تم بد سے بدتر حال میں مبتلا ہوتے چلے جاؤ گے۔ الشَّيْطَنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ خدا کی راہ میں جو کنجوسی کرنے والے ہیں ان کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ شیطان انہیں فقر سے ڈراتا ہے کہ تم غریب ہو جاؤ گے، فقیر بن جاؤ گے۔ جو کچھ آتا ہے تم دیتے چلے جاتے ہو، تمہارے پاس کیا رہے گا، تمہاری تجارتیں کیسے چلیں گی ، بیوی بچوں کے حقوق کیسے پورے کرو گے ، روزمرہ زندگی میں جو تم نے ایک عزت بنائی ہوئی ہے اس کے تقاضے کیسے پورے کرو گے تو فقر سے ڈراتا ہے اور جو ڈرنے والا ہے وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ شیطان نے کب دیا تھا جو اس کے تصرفات کے متعلق ہمیں نصیحتیں کر رہا ہے، دیا تو خدا نے تھا اور جس کو ہم دے رہے ہیں وہی ہے جس نے ہمیں دیا تھا تو یہ فقر کا سودا ہو ہی نہیں سکتا ۔ یہ ناممکن ہے کہ عطا کرنے والا لے اور اس طرح لے کہ اس کو غریب اور فقیر اور منگتا بنا کے چھوڑ دے۔ اگر یہ تھا تو پھر دینے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ تو ایک ایسی ناممکن بات ہے جو کسی صورت میں بھی عقل میں آنہیں سکتی لیکن پھر بھی ڈر جاتے ہو، تم بڑے بے وقوف ہو۔ شیطان جس کا کوئی تعلق بھی نہیں تمہارے رزق سے ہاں بعض صورتوں میں تعلق تم خود بنا لیتے ہو جب نا جائز رزق کماتے ہو تو پھر شیطان کا تم پر دخل ہوتا ہے مگر اللہ نے یہاں نا جائز رزق کی بات ہی نہیں شروع کی۔ فرمایا ہے جو تم کماتے ہو طیبات میں سے تو یہاں اس گروہ کی بات ہو رہی ہے جو نا جائز نہیں کمار ہے۔ جو نا جائز کمانے والے ہیں ان سے تو اللہ مانگتا ہی نہیں کبھی ۔ کب خدا نے کہا ہے کہ اپنی