خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 982 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 982

خطبات طاہر جلد 14 982 خطبه جمعه 29 دسمبر 1995ء امن کے سائے تلے آ جائے اور اس ملک سے پھر آنحضرت ﷺ کے نور کے غلبے کے لئے ایک عظیم الشان تحریک اٹھے۔ یہ وہ مثبت باتیں ہیں جن کی طرف رف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا و ہوں ۔ دعائیں کریں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ جیسے اس سازش کونا کام بنایا ہے آئندہ اور سازشوں کو بھی جن کا ہمیں کچھ پتہ نہیں ان کو بھی ناکام بنا دے اور خدا تعالیٰ کی جوابی کارروائی بڑی شان کے ساتھ احمدیت کے حق میں پے در پے ظاہر ہونے لگے یہاں تک کہ جیسے کہتے ہیں کانوں تک راضی ہو گئے ، ہم سر کی چوٹی تک خدا کے انعامات اور احسانات میں ایسے ڈوب جائیں کہ گویا شکر میں تحلیل ہو جائیں ۔ اس تصور کے مزے لیتے ہوئے ، اس کے چسکے لیتے ہوئے اپنی دعاؤں کو آگے بڑھائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے اور ہماری دعاؤں کو خود ہی اثر عطا کرے اور ان دعاؤں کی قبولیت کی شان ہم آسمان سے برستے ہوئے دیکھیں۔ دوسرا پہلو وہ تھا جس کا میں نے اس سے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ ایم ٹی اے کے خلاف بھی ایک سازش ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے بروقت اس سازش کو منکشف فرمادیا۔ اب صحیح تاریخیں اس وقت معین طور پر تو نہیں میں پیش کر سکتا لیکن جہاں تک مجھے یاد ہے یہی فروری یا مارچ کا ہی غالبا زمانہ تھا۔ اسی سال کے مارچ میں جب پہلی بات میں نے متبادل انتظامات کی تیاری کی ہدایت دی تھی اور ہمارے سید نصیر شاہ صاحب جن کو میں نے اس کام پر مامور کیا تھا اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بڑی محنت کر رہے ہیں۔ اس دن سے لے کر آج تک ، دن رات اس کام میں مصروف ہیں اور خدا نے ان کی محنت کو بہت پھل بھی لگایا ہے ان کو یاد ہوگا کہ وہ کون سے دن تھے جب میں نے ان کو کہا لیکن کم و پیش وہی وقت تھا جبکہ مولوی یہ سازش تیار کر رہے تھے اور ایک اور سازش تیار ہو رہی تھی اور خود مولویوں کی بے احتیاطی سے ہمیں علم ہو گیا کہ کیا واقعہ ہو رہا ہے اور ادھر دوسرے سازشیوں کی بے احتیاطی سے ہمیں یہ علم ہو گیا کہ وہاں کیا واقعہ ہو رہا ہے اور خدا نے ایک لمبا عرصہ تیاری کا دیا جو اگر اس وقت تیاری نہ کرتے تو لا زما بہت بڑا وقفہ پڑنا تھا آج کے ایم ٹی اے کے نظام اے کے نظام میں اور آئندہ ہونے والے نظام میں بلکہ ہو سکتا تھا کہ پھر ہم بہت لیٹ ہو چکے ہوتے کیونکہ ابھی بھی جہاں جہاں ہم نے رابطے کر کے خدا کے فضل سے اپنے وقت واضح طور پر ریز رو کر وا لئے ہیں یعنی پنجابی میں کہتے ہیں جگہ مل لئی وہ ہم نے ان کے وقت مل لئے ہیں وہ یہ بتاتے ہیں کہ اگر تم ذرا بھی دیر کرتے تو اتنا اس