خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 976 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 976

خطبات طاہر جلد 14 976 خطبہ جمعہ 29 دسمبر 1995ء گئے۔لیکن صرف یہ بات کافی نہیں ہے اور بھی بہت سی باتیں ہیں جو انشاء اللہ آئندہ وقت آنے پر میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔ایک دوسرا منصوبہ انہوں نے یہ بنایا کہ اگلے سال ہجرت کا سال پورا ہوتے تک جماعت کے خلاف ایک عظیم فساد برپا کر دیا جائے کہ جس کے بعد ہم کہہ سکیں کہ یہ جماعت پاکستان سے اب ختم ہو چکی ہے اور وہ سکیم بنانے کے بعد انہوں نے لندن پہنچ کر مجھے پیغام بھیجا کہ ہم ایک ضروری بات کے لئے آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔جو پیغام بھیجا اس میں جھوٹی باتیں تھیں، جھوٹے عذر تھے، جو اصل بات نکلی وہ اور تھی جو میں اب آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔پیغام یہ تھا کہ آپ کی باتوں سے لگتا ہے کہ آپ کو امت مسلمہ کی ہمدردی تو ہے نا کم سے کم اور اسی لئے ہم کچھ افہام وتفہیم کے لئے آنا چاہتے ہیں۔میں نے ان سے کہا کوئی افہام و تفہیم آپ سے مجھے نہیں کرنا۔میری باتیں کھلی کھلی ہیں میں خطبات میں سب کچھ کھول دیتا ہوں اور آپ کو پیغام مل چکا ہے اب آپ کی مرضی ہے کہ مانیں یا نہ مانیں مگر اگر کوئی بات کرنی ہے تو میری نمائندگی میں امیر صاحب یو۔کے موجود ہیں اور ان کے ساتھ بعض اور وں کو بھی شامل کر دوں گا آپ نے جو کچھ کہنا ہے ان سے کہہ دیں۔جب وہ ملنے کے لئے آئے تو پھر بات اور نکلی۔بہت سی ادھر ادھر کی باتوں کے بعد انہوں نے کہا ہم آپ کو دراصل وارننگ دینے آئے ہیں۔آپ یعنی مجھے پیغام پہنچادیں کہ اب دو ہی رستے رہ گئے ہیں یا تو وہ اسلام الله قبول کر لیں جو ان کا اسلام ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اور محمد رسول اللہ ﷺ کے اسلام کو چھوڑ دیں۔یعنی عملاً یہ پیش نظر تھا کہ وہ اسلام جو حقیقی اسلام ہے، جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا اسلام ہے جس میں جھوٹ کی کسی قیمت پر اجازت نہیں، کسی حالت میں اجازت نہیں اس کو چھوڑ کر ان جھوٹوں کا اسلام قبول کرلوں۔یہ تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا مگر ویسے میں ان کی بات بتا رہا ہوں۔یہ کریں ورنہ پھر بدنتائج کے لئے تیار ہو جائیں اور ساتھ یہ کہا کہ ہم اگلی اپریل کے آخر پر پھر ملنے آئیں گے اور اس کے بعد ایک میرے نام کھلا خط شائع کیا جس میں یہ ساری باتیں بیان کیں سوائے اس بات کے جو زبانی پیغام دے گئے تھے۔صلى الله امیر صاحب اور ان کے ساتھ جیسے مومن عموما بھولا ہوتا ہے وہ سمجھے، بھولے سے مراد ہے بعض دفعہ زیادہ ہی اعتماد کر جاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ جس کو دکھانا چاہتا ہے، جس کے سپر د ذمہ داریاں