خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 975
خطبات طاہر جلد 14 975 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 1995ء لذت یاب ہونے کے لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں کہ اب ہمیں لطف آئے گا۔اس وقت وہ اندھے ہو جاتے ہیں، کچھ ان کی پیش نہیں جاتی اور جو نتائج دیکھنے کے متمنی ہوتے ہیں ان نتائج سے کلیہ محروم کر دیئے جاتے ہیں۔یہ سال جو گزرا ہے اس میں ایسا بھی ایک واقعہ ہو چکا ہے اور اسی وقت مجھے اللہ تعالیٰ نے سمجھا دیا کہ یہ کیا سازش ہے کیونکہ یہ سال ہماری جماعت کے خلاف سازشوں کا سال بھی ہے اور اس پہلو سے ہماری تاریخ میں یا درکھا جائے گا۔جب میں نے یہ اعلان کیا اس سے پہلے میں یہ بھی اعلان کر چکا تھا کہ دعائیں کریں اللهم مزقهم كل ممزق و سحقهم تسحیقا کہاے اللہ دشمنوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔وہ دشمن عامتہ الناس نہیں۔وہ دشمن مسلمان شریف علماء نہیں بلکہ وضاحت کے ساتھ میں نے یہ بات کھول دی تھی کہ وہ دشمن ، وہ شریروں کے راہنما ہیں جو شرارتوں کے مرکز ہیں، جہاں سے آگ کے شعلے اٹھتے ہیں اور بھڑکائے جاتے ہیں۔وہ شریر پیش نظر ہیں یعنی دشمنوں کے سردار ایسے راہنما جو کسی صورت بھی باز نہیں آتے اور لا زما ہمیشہ شر اور فساد کی آگ بھڑ کانے کے لئے وقف رہتے ہیں۔میں نے یہ وضاحت اس لئے کی کہ جماعت کی شان نہیں ہے کہ وہ بددعائیں کرتی پھرے یا بد دعا میں جلدی کرے۔صرف ان بد بختوں کے لئے بددعا کرنی چاہئے جن کے لئے بددعا قوم کے لئے لازما دعا بن جاتی ہے۔ان کی بدی سے ان کے شر سے نجات کا ذریعہ ہی یہی رہ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پکڑ کے ایسے سامان پیدا فرمادے کہ ان کے شر سے دنیا محفوظ ہو جائے اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر وہ شرارتیں اپنے منطقی نتیجے کو ضرور پہنچیں گی اور یہاں اس وقت میرے پیش نظر احمدیوں کو پہنچنے والا ثر نہیں تھا بلکہ اہل پاکستان کو پہنچنے والا شر خصوصیت سے پیش نظر تھا اور وہ شر ایسا تھا جس کی تیاریاں وہاں کی جاچکی تھیں اور ہورہی تھیں۔چنانچہ ایک وہ پہلو تھا جس کے پیش نظر اچانک یہ واقعہ ہوا کہ سارے علماء نے سر جوڑے اور کہا ہم اکٹھے ہوتے ہیں اور ہم ایک ہو جائیں گے اب، ہمارے اندر کوئی اختلاف نہیں ہوگا۔مجھے اسی وقت سمجھ آ گئی کہ یہ تو جواب دیا جا رہا ہے ہماری دعا کا۔ہماری دعا تو اللہ سے تھی اور اس دعا کی عرض حال یہ تھی کہ اے خدا ان کو پارہ پارہ کر دے تو کہتے ہیں دیکھ لو جی تمہاری دعا کا اثر ہم تو ا کٹھے ہو گئے۔لیکن چند دن ہی میں وہ جھوٹی وحدت ٹوٹ گئی اور اسی طرح ایک دوسرے کے خلاف ہونا شروع ہو