خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 971
خطبات طاہر جلد 14 971 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 1995ء خدا کی تقدیر یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ ہر سال احمدیت کے حق میں ایک نئی شان لے کر آئے گا۔ہر سال احمدیت کا سال ہوگا۔( خطبه جمعه فرموده 29 دسمبر 1995ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات تلاوت کیں: مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمةٍ لا يُبْصِرُونَ صُمٌّ بُكْمُ عُى فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (البقرة:19:18) پھر فرمایا:۔سب سے پہلے تو میں آج کے خطبے میں یہ ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارا سال 1995ء اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت سی برکتیں لے کے آیا، بہت سے اہم واقعات اس سال میں رونما ہوئے اور بہت سی خوشخبریاں جماعت کے لئے پیچھے چھوڑ کر اب یہ رخصت ہونے والا ہے صرف اس سال کی چند گھڑیاں باقی ہیں اور پھر ہم ایک نئے سال میں داخل ہوں گے۔اسی نسبت سے ہمیں ، سب کو اپنے سال گزشتہ کے حالات پر ایک نظر ڈالنی چاہئے اور اس نقطۂ نظر سے دیکھنا چاہئے کہ ہم نے اس سال میں کتنی بدیاں اتار پھینکی ہیں، کتنی خوبیاں نئی حاصل کی ہیں، کون سی نیکیاں ہیں جن سے پہلے محروم تھے اس دفعہ ہمیں توفیق ملی ، کون سی نیکیاں ہیں جن سے ہم محروم رہ گئے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ پہلے عادی تھے مگر اب سست پڑ گئے۔یہ جائزہ ہر سال کے اختتام پر ہوتا رہنا چاہئے اور بہت ہی اہم جائزہ ہے۔