خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 967 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 967

خطبات طاہر جلد 14 967 خطبہ جمعہ 22 /دسمبر 1995ء اور رستے پیدا ہوتے دکھائی دیئے یہاں تک کہ خدا کے فضل کے ساتھ وہ چیلنج جو اندر ہی اندر کیڑوں مکوڑوں کی طرح پل رہے تھے ، جو جراثیم کی طرح آخری ہلہ بول کر پھٹ پڑنے کے لیے تیار بیٹھے تھے جب وہ ظاہر ہوئے تو اس سے پہلے خدا نے ہمارا متبادل انتظام فرما دیا تھا اور یہ تفصیل کہ آئندہ کیسے چلے گا یہ کام اس پر میں جب تمام باتیں آخری صورت اختیار کر لیں گی پھر انشاء اللہ میں ان سے متعلق آپ کو مطلع کروں گا۔سر دست یہ بتانا ضروری ہے کہ جیسا کہ Teething Problems دانت نکالنے کے زمانے کی مشکلات ہوا کرتی ہیں ہر نظام کی تبدیلی کے وقت ایسی مشکلات ضرور ہوا کرتی ہیں لیکن اگر مشکلات کے بعد کا دور پہلے دور سے بہت بہتر ثابت ہو تو یہ مشکلات بہت معمولی دکھائی دیتی ہیں اس لئے یقین جانیں کہ اللہ اپنے فضل کے ساتھ اس نظام کو ایک بہتر نظام میں تبدیل کر دے گا اور اس کے لئے دعائیں بھی کرتے رہیں اور اس کے لئے جن جن جماعتوں کے احباب کے سپر د ذمہ داریاں ہیں وہ ان کو ادا کرتے رہیں۔انشاء اللہ تعالیٰ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ نظام بہت بہتر اور بہت زیادہ عالمگیر منفعتیں رکھنے والا نظام ثابت ہوگا اور آئندہ کے لئے بے فکر ہو کر انشاء اللہ ہم اطمینان کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھ سکتے ہیں اور آئے دن کی یہ اطلاعیں کہ اب یہ جو Transpodent تھا بند کر دیا گیا اسے کسی اور پروگرام میں منتقل کر دیا گیا۔آپ کا خطبہ آرہا تھا کہ اچانک اپنا ٹیلی ویژن شروع ہو گیا، اچانک آواز بند کر دی گئی یا اچانک وہ سب کچھ ڈولنے لگا اور پھر ہمیں رخ تبدیل کرنے پڑے۔یہ تمام شکایتیں جو پیدا ہو رہی تھیں ان پر ایک یہ بھی تھی کہ عین دینی پروگراموں کے وقت غلیظ گندے ہندوستانی گانوں کے پروگرام بیچ میں شروع کر دیئے جاتے تھے تو یہ چیزیں ایسی تھیں جنہیں ہم مستقل طور پر برداشت کر سکتے ہی نہیں تھے۔اس لئے دعا کر کے میں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ یا یہ ٹھیک ہوں گے یا میں زیادہ پسند کروں گا کہ کچھ عرصے کے لئے ٹیلی ویژن کو بند کر دیا جائے۔مگر تو کل کرتے ہوئے کہ خدا متبادل انتظام کر دے گا اللہ کے فضل کے ساتھ ہماری ٹیم کو کوششوں کی توفیق ملی اور وہ متبادل انتظام تقریباً اپنے پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں۔وقتی نافے کا شاید ان معنوں میں ہمیں سامنا کرنا پڑے کہ بارہ گھنٹے کی سروسز کی بجائے پاکستان اور ایشیا کے ممالک کے لئے ہمیں وقتی طور پر تین گھنٹے پر انحصار کرنا پڑے، تین گھنٹے پر راضی رہنا پڑے مگر لمبے عرصے کے لئے نہیں۔تین چار مہینے بس