خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 966
خطبات طاہر جلد 14 966 خطبہ جمعہ 22 /دسمبر 1995ء کے سپرد کیا گیا ہے۔تمام دنیا کی کایا پلٹ دو، ایک عظیم انقلاب بر پا کر دو، ہر اندھیرے کو روشن کر دو اور اتنا روشن کر دو که دنیا جان جائے تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے کہ گوشے گوشے پہ نور غالب آ گیا ہے اور اندھیرے کونوں کھتروں میں منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔یہ وہ آخری غلبہ نور مصطفوی ہے جس کے لئے ہم دیوانوں کو چنا گیا ہے اور دیوانے اس لئے کہ جب تک دیوانگی پیدا نہیں کریں گے اس وقت تک نہ عشق کا مضمون ہم سمجھ سکتے ہیں نہ ہم پروانوں کا رنگ اختیار کر سکتے ہیں۔دیکھو جب پروانہ جل بھی جاتا ہے تو ایک نور کی صورت میں جلتا ہے، ایک چھوٹی سی روشنی پیدا کرتا ہوا مرتا ہے۔پس اگر اس راہ میں جانیں بھی فدا کرنی پڑیں تو اٹھو اور محمد مصطفی ﷺ کے نور پر جل جاؤ اور تھوڑی سی روشنی پر جس میں تمہاری جان فدا ہو ہمیشہ کے لئے فخر کرو کیونکہ یہی نور ہے جو آئندہ تمہارے لئے موت کے بعد ایک دائگی نور بن جائے گا۔پس نور کے سوا چارہ کوئی نہیں ہے اور یہی تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔اب اس پیغام کے بعد میں مختصر MTA1 کے متعلق کچھ باتیں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں تفصیل سے اس موضوع پر پھر بعد میں روشنی ڈالوں گا۔لیکن یہ بتانا ضروری ہے کہ کچھ عرصے سے MTA کے خلاف کچھ سازشیں ہو رہی تھیں اور بے حد کوشش تھی کہ ایسے موقع پر اچانک ہمیں بے بس اور نہتا کر کے چھوڑ دیا جائے کہ ہم چاہیں بھی تو کوئی متبادل نصیب ہو۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اور اس کا تعلق بھی نور سے ہے کہ جب خدا تعالیٰ ایسے حالات کو دیکھتا ہے جس کا ہمیں علم نہیں تو اللہ تعالیٰ اس وقت طبیعتوں کو جھنجوڑتا اور متوجہ کرتا ہے کہ متبادل انتظام کی کوششیں شروع کر دو۔چنانچہ ایک سال کا عرصہ ہوا جبکہ خدا نے میرے دل میں یہ بے چینی پیدا کی کہ موجودہ نظام پر ہرگز انحصار نہیں کیا جا سکتا اور جماعت احمدیہ کو کسی ایک کی مرضی پر نہیں چھوڑا جا سکتا اس لئے فوری طور پر متبادل انتظامات شروع کرو اور بظاہر ایسی مشکلات تھیں جیسے ٹھوس دیوار سے آدمی سر ٹکرائے اور کوئی راہ نہ پائے لیکن میرے دل میں کامل یقین تھا ، رہا اور اب بھی ہے اور آئندہ رہے گا کہ یہ نظام اللہ تعالیٰ نے جاری فرمایا ہے اس لئے خواہ کیسی ہی مشکلات ہوں ہمارا فرض صرف اتنا ہے کہ حتی المقدور استطاعت کے مطابق کوشش کریں ، آگے راہیں کھولنا خدا کا کام ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ہر مشکل کے وقت ایک اور رستہ پیدا ہوتا دکھائی دیا اور اس کی پیروی کے نتیجے میں کچھ مشکلات اور ابھریں پھر