خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 959 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 959

خطبات طاہر جلد 14 959 خطبہ جمعہ 22 /دسمبر 1995ء منصب امامت از مولانا محمد اسماعیل شہید صفحه 70 مطبوعہ آئینہ ادب چوک مینار انار کلی لاہور مطبوعہ 1967 ء ( اب اگر فارسی تلفظ میں غلطی ہوگئی ہو تو میں معذرت چاہتا ہوں ) ترجمہ یہ ہے یعنی ظاہر ہے کہ دین کی ابتداء حضرت رسول مقبول ﷺ سے ہوئی ابتدائے ظهور دین در زمان پیغمبر ، لیکن اس کا اتمام امام مہدی کے ہاتھ پر ہو گا اور یہاں جس اتمام کی خوش خبری ہے یہ مہدی کے وقت کے ساتھ منسلک ہے اور مہدی کے زمانے ہی میں یہ تمام والا حصہ اپنی بڑی شان کے ساتھ پورا ہوگا۔حضرت امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔انہوں نے یہ روایت درج کی ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اس آیت میں وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام دینوں پر اسلام کو غالب کرے گا اور اس وعدے کی تکمیل مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں ہوگی اور سُدی کہتے ہیں کہ یہ وعدہ مہدی موعود کے زمانے میں ہوگا۔(تفسیر رازی جز نمبر 16 تفسیر سوره تو به صفحہ 40 زیر آیت ہذا۔زیر عنوان الوجہ الثانی) پس سینکڑوں سال پہلے جو چوٹی کے بزرگ مفسرین تھے یا دیگر بزرگ انہوں نے اس آیت کا منطوق یہی سمجھا کہ یہ لازمی طور پر پورا ہونے والا وعدہ مسیح موعود یا مهدی معہود کے دور میں پورا ہوگا۔پھر تفسیر روح المعانی میں لکھا ہے و ذالک عند نزول عيسى عليه السلام (الجزء العاشر سورۃ توبہ صفحہ 77 زیر آیت ہذا) یعنی اکثر مفسرین اس امر پر قائل ہیں کہ یہ وعدہ مسیح کے زمانے میں پورا ہوگا۔(عند نزول عیسیٰ علیہ السلام کے الفاظ ہیں)۔تو ترجمہ اب یہی بنتا ہے کہ وہ اکثر مفسرین اس بات کے قائل ہیں کہ یہ واقعہ یعنی اسلام کا غلبہ دوسرے ادیان پر عیسی علیہ السلام کے نزول کے وقت ہو گا۔اب خواہ حضرت مسیح موعود کو وہ عیسی مانیں یا نہ مانیں یہ لاز مامانا پڑے گا کہ اس وعدے کا تعلق آنے والے مسیح سے ہے اور چونکہ ہم جانتے ہیں اور مانتے ہیں کہ آنے والا مسیح آپکا اس لئے ہم پر تو سند کامل مکمل ہوگئی اور حجت تمام ہوگئی۔ہر احمدی کا فرض ہے کہ ان پیشگوئیوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صورت میں پورا ہوتے ہوئے تسلیم کر کے اس کے نتیجے میں عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو ادا کرے۔تفسیر قرطبی جز نمبر 8 سورۃ تو بہ زیر آیت ہذا۔131 پر ہے۔قال ابو هریره والضحاک