خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 958
خطبات طاہر جلد 14 958 خطبہ جمعہ 22 /دسمبر 1995ء اب اتمام نور سے کیا مراد ہے؟ یہاں سے گفتگو آگے بڑھنی چاہئے۔سب سے پہلی بات کہ وہ نور جو اسلام کا نور حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی صورت میں اور قرآن کی صورت میں اترا اور دونوں ایک ہی وجود کے دو نام بن گئے وہ نور اپنی صفات کے لحاظ سے تمام ہو چکا۔اس کے بعد پھر اتمامِ نور کا کیا معنی؟ یہ وہ دوسرا معنی ہے جس کو خدا نے خود اس اگلی آیت میں کھول دیا ہے۔مطلب یہ ہے کہ یہ نور ہے تو تمام لیکن اس کے تمام ہونے کے اور بھی معنی ہیں، اس کے تمام ہونے کا یہ بھی معنی ہے کہ دنیا کے ہر دوسرے دین پر یہ غالب آجائے اور تمام سطح ارض کو اپنی لپیٹ میں لے لے اور کوئی جگہ بھی باقی نہ چھوڑے جہاں یہ نہ چمکا ہو۔یہ بھی اتمام نور کا ایک معنی ہے۔چنانچہ اس معنی کے لحاظ سے فرماتا ہے: هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ۔وہی اللہ ہے جس نے اپنے اس رسول کو ہدایت اور حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ تمام ادیان پر اس کو غالب کر دے۔یہ غلبہ کس صورت میں مقدر تھا۔ظاہر ہے اور قطعی طور پر یہی درست ہے کہ اس غلبے سے مراد حضرت صلى الله اقدس محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے نور کا غلبہ ہے جو باقی ادیان پر ہونا ہے۔مگر آج چودہ سو برس ہونے کو آئے ابھی تک وہ بدنصیب انسانیت کا حصہ جو اسلام کا اور اس نور کا انکار کر رہا ہے عددی لحاظ سے مسلمانوں سے بہت زیادہ ہے اور مسلمانوں کی تعداد دنیا کی آبادی کی چھپیں فی صد سے زائد نہیں ہے اور تمام ادیان پر اسلام کا غلبہ ابھی تک نہیں ہو سکا۔تو کن لوگوں کے ہاتھوں میں کیسے مقدر تھا اس سلسلے میں بعض گزشتہ بزرگوں یا جنہیں بزرگان سلف کہا جاتا ہے ان کے حوالے میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ ایسے بزرگوں کے اقوال سے اس بات کو کھولوں جن کی مخالفت کی کسی ملاں کی جرات نہیں ہے اور جن کی بزرگی ان کے لئے تسلیم شدہ حقیقت ہے۔حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب شہید ، آپ کی بہت عزت ہندوستان میں ہے، بہت بڑی تعداد میں آپ کو عظیم بزرگ اور اپنے وقت کا مجدد ماننے والے موجود ہیں ، ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی۔وہ فرماتے ہیں، فارسی کا کلام ہے۔دو و ظاہر است که ابتدائے ظہور دین در زمان پیغمبروه بوقوع آمده و اتمام آن از دست حضرت مهدی واقع خواهد گردید