خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 951 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 951

خطبات طاہر جلد 14 951 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 1995ء آپ کے اردگرد وہی شعلہ نور اترتا رہا اور ان کے گھر بھی مشعلیں روشن ہو گئیں، وہ چراغ جلنے لگے جو محمد رسول اللہ اللہ کے نور سے روشن ہوئے تھے۔پس اس نور کو اس دنیا میں زندہ کرنا اپنی ذات میں، اپنی ذات کو چراغوں میں تبدیل کر دینا، اس دنیا کے اندھیرے دور کر دینے کے لئے لازم ہے، ہرگز یہ کوئی ایسا مضمون نہیں جو علمی، ذوقی دلچسپیوں کی خاطر بیان کیا جا رہا ہو۔ہم میں سے ہر ایک کی ذات سے اس کا گہرا ذاتی تعلق ہے۔ہماری زندگی اور موت سے تعلق رکھنے والا مضمون ہے۔اس مضمون کو مجھیں اور نور بنیں گے تو آپ بھی زندہ ہوں گے اور زندہ رہیں گے اور ساری کائنات کو زندہ کرنے کی صلاحیت آپ میں پیدا ہو جائے گی۔اگر اس کے بغیر غفلت کی حالت میں زندگی بسر کریں گے تو صلى الله غفلت کا نام تو اندھیرے ہیں۔پھر ان اندھیروں سے جن سے محمد رسول اللہ ا نکالنے کے لئے تشریف لائے ان اندھیروں سے آپ تو پھر کبھی نہیں نکل سکیں گے۔اس لئے بہت ہی بیدار مغزی کی ضرورت ہے۔جاگیں ، ہوش کریں ، اٹھیں اور اپنی ذات میں ان نوروں کو تلاش کریں جو خدا نے آپ کی ذات میں رکھ دیئے ہیں اور آنحضرت مے کے حوالے سے آپ کی پیروی میں ان کو جلا بخشیں۔پس میں تو اس مضمون کو یوں سمجھتا ہوں اور آخر پر یہی آپ کے سامنے عرض کرتا ہوں کہ جس طرح خدا کے نور نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نور پر جلوہ گری کی تھی اور نُورٌ عَلی نُورِ بن گیا تھا آج ہمارے لئے محمد رسول اللہ ﷺ کا نور وہی کام دکھائے گا۔جس حد تک آپ کسی گوشے کا روشن کریں گے یا چمکائیں گے اسی حد تک وہاں نور محمد مصطفی ملے آپ پر نازل ہو کر آپ کے اندر ایک نُور عَلَى نُورٍ کا منظر پیدا کر دے گا۔