خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 950 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 950

خطبات طاہر جلد 14 950 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 1995ء ہست سے نیست میں منتقل ہو جائے۔ہر مخلوق آپ نے فرمایا ہے، پس ان دو احادیث میں جو بھی تضاد پیدا کرنے کی کوشش کرے گاوہ دونوں نوروں سے محروم رہ جائے گا۔اس حدیث کے نور سے بھی محروم رہ جائے گا ، اس حدیث کے نور سے بھی محروم رہ جائے گا۔پس وہ رویت جو محمد رسول اللہ ﷺ کو دکھائی گئی حضرت ابن عباس کہتے ہیں وہ تو اس نور کے جلوے سے دکھائی گئی جس نور کے جلوے سے خدا دکھائی دے سکتا ہے اور اب اس پر وہ آیت پڑھیں نُورٌ عَلی نُورٍ کہ محمد رسول اللہ اللہ کے نور پر عرش سے خدا کا نورا ترا ہے وہ نور جو اترا ہے وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے نور کے ساتھ بغایت درجہ یکجا ہو گیا، یک جان ہو گیا۔ایک ہی چیز تھی جس کے آپس میں ملنے سے بجلی نے غیر معمولی اس طرح جلوہ گری کی ہے جیسے بڑی قوت کے ساتھ کوئی چشمہ پھوٹ پڑتا ہے اور غیر معمولی رفعتیں پیدا ہوئیں اور یہ نور مخلوق ہے اور اللہ کی ذات کا نور مخلوق نہیں ہے، اس فرق کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں تا کہ آپ کبھی بھی شرک میں مبتلا نہ ہوسکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو جو باتیں بھی بیان فرمائی ہیں ان میں ایک ذرہ بھی قرآن اور حدیث کے منافی کوئی بات نہیں اور قرآن اور حدیث نے یہ بات کھول دی ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ اپنے نور کومخلوق فرما رہے ہیں اور خدا تعالیٰ ہر مخلوق چیز کو اپنے اپنے مرتبے اور مقام کے مطابق نور کہہ رہا ہے۔فرماتا ہے ہر چیز جو خلق ہے اس میں میرا کچھ نہ کچھ جلوہ ضرور موجود ہے اور وہ جلوہ جو ہے وہ دراصل میرے نور کا جو اندرونی نور ہے جو باطن میں میں ہوں اس پر پردہ ہے کیونکہ اس پردے کے بغیر تم مجھے دیکھ ہی نہیں سکتے۔پس یہ وہ خلاصہ کلام ہے ان مختلف عبارتوں کے مجموعی طور پر دیکھنے سے جس کے تعلق میں انشاء اللہ میں آئندہ خطبے میں بعض دوسری باتیں بیان کروں گا اور اس پہلو پر بھی کچھ اور روشنی ڈالوں گا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو مختلف عبارتوں میں اپنے مضمون کو خوب کھولا ہے وہ عبارتیں آپ کو دکھاؤں گا تا کہ کسی احمدی کے دل میں اس پہلو سے کوئی اشتباہ کا سوال باقی نہ رہے اور اللہ کے فضل کے ساتھ جب یہ باتیں آپ پر روشن ہو جائیں گی تو پھر آپ کے اندر وہ نور چمکنے لگے گا اور بیدار ہونے لگے گا جو آپ کو عطا ہوا ہے۔ہر انسان کو عطا ہوا ہوا ہے، ہر انسان کی فطرت میں وہ نور رکھا گیا ہے، کہیں باہر سے نہیں آئے گا۔یہ نور جب چمکے گا تو پھر آسمان سے شعلہ نور آپ پر بھی اترے گا اور لا زم ہے کہ اترے کیونکہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے غلاموں پر آپ کے ماحول میں،