خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 944 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 944

خطبات طاہر جلد 14 944 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 1995ء اصل مقصد کیا تھا۔مثلاً ایسا ہی ایک اقتباس میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكَّا وَخَرَّ مُوسى صَعِقَا (الاعراف : 144 )۔موسیٰ علیہ السلام کا بے ہوش ہو کر گرنا ایک واقعہ نو رانی تھا جس کا موجب کوئی جسمانی ظلمت نہ تھی۔بلکہ تجلیات صفات الہیہ جو بغایت اشراق نور ظہور میں آئی تھیں وہ اس کا موجب اور 66 باعث تھیں۔“ اب اس مضمون کو اچھا اردو دان بھی فورا نہیں سمجھ سکتا کیونکہ زبان ہے تو اردو مگر چوٹی کی اردو ہے جس میں عربی کے تمام الفاظ شامل کیے گئے ہیں جو اس مضمون سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ مجبوری ہے کیونکہ تھوڑی جگہ جب زیادہ مضامین باندھنے ہوں تو اس کے سوا چارہ نہیں رہتا کہ کچھ مشکل راستوں سے گزرا جائے۔احتیاطاً تاکید بھی فرما دی کہ دیکھوتم یہ نہ سمجھ لینا کہ ایک ہی دفعہ کتا ہیں پڑھ کر تم فارغ ہو جاؤ گے۔تمہیں بار بار پڑھنا پڑیں گی اور اگر یہ سمجھو کہ ایک ہی دفعہ کی پڑھائی سے تم سب کچھ پا لو گے تو یہ تکبر ہے۔چنانچہ بعض لوگ بڑی گھبراہٹ میں لکھتے ہیں کہ ہم نے تو ابھی تک ایک دفعہ بھی نہیں پڑھیں اگر آج مر گئے تو کیا ہم متکبر مریں گے۔ان کو میں سمجھا تا ہوں کہ تم بات نہیں سمجھ رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ مطلب ہے کہ بعض علماء مثلاً یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں ایک دفعہ پڑھنے کی بھی ضرورت نہیں، بعض سمجھتے ہیں ایک دفعہ پڑھ لیا کافی ہو گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام متوجہ فرما رہے ہیں، متنبہ کر رہے ہیں کہ میں نے جو علوم کے خزانے لٹائے ہیں اس میں بارہا اتنا گہرا مضمون اتنی تھوڑی جگہ میں بیان فرمایا ہے کہ عام عقل والا آدمی تو الگ علماء بھی جب تک اس کو بڑی توجہ سے انکسار کے ساتھ بار بار نہ پڑھیں وہ مطلب نہیں پاسکیں گے۔یہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرما رہے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نور یافتہ ہیں۔عام دنیا کے حالات میں شعراء بھی ایسی باتیں کرتے ہیں جن کو پتا ہو کہ ہم ذرا مشکل ہیں: آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے مدعا عنقا ہے اپنے عالم تحریر کا (دیوان غالب صفحہ: 25)