خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 943
خطبات طاہر جلد 14 943 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 1995ء کے اندر داخل تھیں ۔ مگر جب تک قرآن نہیں اتر انُورٌ عَلَى نُورٍ (النور: 36) ان پہلوؤں سے نہیں بنے۔ ہر وحی نے آپ کے ایک نور پر جلوہ گری کی ہے پھر وہاں امتزاج کامل ہوا ہے۔ پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ نور جوقرآن میں ہے وہی نور محمد رسول اللہ ﷺ ہیں اور اس کو تئیس (23) سال لگے ہیں مکمل ہونے میں ۔ صلى الله مگر یہ سلسلہ نور کی جلاء کا جیسا کہ میں نے پچھلے خطبے میں بیان کیا تھا یہ حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد بھی جاری وساری ہے اور اسی نور کی پیروی سے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر ایک خوب صورت پیکر کی صورت میں ابھری ہے اور جہاں فرق ہیں وہاں فرق ہیں اور جہاں مماثلتیں ہیں وہاں مماثلتیں ہیں ۔ مگر اولیت بہر حال اولیت ہے اور جو کچھ بھی مسیح اور صلى الله الله موعود علیہ السلام نے نور پایا قرآن اور محمد رسول اللہ ﷺ سے پایا اور محمد رسول اللہ ﷺ سے تعلق کے بغیر آپ کو قرآن کا کوئی نور بھی نہیں مل سکتا تھا۔ ایک ذرہ بھی ہدایت کا آپ پا نہیں سکتے تھے اگر اس دائرے صلى الله عروسہ صلى الله ے میں محمد رسول اللہ ﷺ اللہ ﷺ سے استغناء ہوتا ، ضرورت کا احساس نہ ہوتا اور عملاً استفادہ نہ کیا جاتا۔ پس یہ تمام شرطیں اس تعلق میں سمجھنی ضروری ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قرآن اور رسول اللہ سے کیا تعلق تھا۔ پس آپ نے جو نور دیکھا، جو ہمیں دکھا یا وہ آپ کی کتابوں میں اس طرح دمک رہا ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ ایک شخص نے اپنی زندگی کی اتنی مصروفیات کے باوجود اتنے عظیم معارف کیسے بیان کئے ، کیسے کھولے۔ کیسے وقت پایا اور پھر ان کو اس طرح اجتماعی شکل میں تھوڑے وقت میں بڑے مضمون کو کوزے میں دریاؤں کی طرح بند کر دیا اور اس پر اب غور کی ضرورت ہے۔ اس پر ہمیشہ گہری نظر سے مطالعہ کرتے ہوئے ، دیکھتے ہوئے ، بیچ میں اترتے ہوئے اس طرح آپ سفر کریں تو تب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات سے آپ استفادہ کر سکتے ہیں ورنہ کئی دفعہ دھو کے بھی لگ جاتے ہیں ایک ہی تحریر سے بعض دفعہ بعض احمدی سمجھتے ہیں کہ یہاں گویا رسول اللہ ﷺ کی اس ظاہری رویت کا ذکر ہے جس میں آپ نے خدا کو دیکھا حالانکہ ظاہری رویت خدا کی تو کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ ناممکن ہے ہو ہی نہیں سکتی اور کبھی آنحضرت ﷺ کی ظاہری رویت کہیں کوئی صلى الله ذکر نہیں ملتا ۔ مگر یہ الگ مضمون ہے میں آپ کو یہ سمجھا رہا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عبارتوں سے اس قسم کے اشتہات پیدا ہوتے ہیں۔ پھر پڑھیں ، پھر پڑھیں تو سمجھ آجاتی ہے کہ