خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 942
خطبات طاہر جلد 14 942 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 1995ء ہے،اس کے بغیر یہ وعدہ مکمل ہو نہیں سکتا۔پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو جب اس زمانے میں نور فرقان کو ظاہر کرنے کے لئے پیدا فرمایا گیا تو وہی نور بصیرت جو محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات کو پہچاننے اور اس پر گواہ بننے کے لئے درجہ کمال کو پہنچ چکا تھا، وہی نور بصیرت قرآن کو سمجھنے میں بھی درجہ کمال کو پہنچ چکا تھا، وہی نور بصیرت قرآن کو سمجھنے میں بھی درجہ کمال کو پہنچا ہوا ہے اور اس پہلو سے اندرونی نور کے مختلف مظاہر میں فرق دکھائی دیتا ہے۔ایک نور وہ ہے جو صداقت کو پہچانتا ہے اور چہروں کو دیکھتا ہے اور پھر گواہی دیتا ہے اس کے بعد اور کسی گواہی کی ضرورت نہیں رہتی۔ایک نور اس درجہ تک صیقل ہو جاتا ہے کہ نور محمد کے اندراس درجہ مستغرق ہو جاتا ہے، ایسا گہرائی تک اتر جاتا ہے کہ جب قرآن کو پڑھتا ہے تو قرآن کے مخفی راز بھی اس پر روشن ہونے لگتے ہیں مگر وحی الہی کے نور اور محمد رسول اللہ اللہ کے نور میں ایک فرق یہ ہے، اگر کوئی فرق ہے تو یہ ہے کہ وحی الہی کا نور دائمی طور پر اپنے معانی پر غور کرنے کی دعوت دیتا چلا جاتا ہے اور ہر موقع اور حال کے مطابق وہ معانی اس میں دکھائی دیتے ہیں اور نورمحمد رسول اللہ ﷺ کے نور میں وہ معانی اس طرح سمجھ میں نہیں آتے سوائے اس کے کہ قرآن کے حوالے سے آپ پیش گوئیاں کرتے ہیں تو پھر معنی دکھائی دینے لگتے ہیں تو ایک دوسرے کے آئینہ بن جاتے ہیں۔پیش گوئیاں فی ذاتہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات میں نہیں ہیں۔فی ذاتہ قرآن کریم میں ہیں۔آئندہ کی خبریں اور حالات کا چارہ قرآن کریم میں بیان فرمایا گیا ہے۔آنحضرت ﷺ کے نور بصیرت نے انہیں دیکھا، سمجھا اور اس کے علاوہ مزید وحی آپ پر نازل ہوئی اور وحی کی مدد کے بغیر آپ کو بھی کلیہ وہ باتیں اس طرح دکھائی نہیں دیں جس طرح آپ نے دیکھیں اور پھر ہمیں دکھا ئیں۔تو جہاں ہم کہتے ہیں کہ کتاب اور رسول ﷺ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں یہ ایک طرز کلام ہے۔اس کو لفظ لفظ اسی طرح چسپاں کر دینا کہ بالکل ایک ہی چیز ہیں۔یہ بالکل نا معقول بات ہے۔جو تمثیلات کے اعلیٰ پہلو ہیں۔جو عقلاً ایک دوسرے پر چسپاں کئے جاسکتے ہیں اسی حد تک تمثیل صادق آتی ہے ورنہ محمد رسول اللہ ﷺ کو تو اس کتابت قرآن کی طرح لکھا تو نہیں جا سکتا اور قرآن کریم کی بہت سی باتیں ہیں۔قرآن کریم جستہ جستہ وحی کی صورت میں نازل ہوا ہے۔حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے نور متعلق یہ بھی آتا ہے کہ سب سے اول بنایا گیا اور پھر جب آپ پیدا ہوئے تو تمام نورانی صفات آپ