خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 930 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 930

خطبات طاہر جلد 14 930 خطبه جمعه 8 دسمبر 1995ء نکات ان کے سامنے رکھے اور آخری منزل جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آخری منزل ہر ایک چیز کی طیہونی ضروری ہے ورنہ وہ سفر ٹامک ٹوئیوں کا سفر ہوگا ۔ اندھا جیسے لاٹھی کے ذریعے چلتا ہے ویسا سفر ہوگا۔ میں نے ان کے سامنے آخری بات یہی رکھی تھی کہ جو چند شاخیں تھیں ان میں سے ایک شاخ یہ بیان کی تھی کہ آپ نے بالآخر بائبل کے مفسر بننا ہے اور بائبل کے مفسر قرآن کی روشنی میں بننا ہے اور بائبل کا مفسر اس رنگ میں بنتا ہے کہ بائبل کے موید بنیں اور منکر اس کے بنیں جو بائبل میں خدا کی طرف منسوب کر کے داخل کیا گیا ہے اور اسے کھول کے دکھا دیں اور قرآن کی مدد سے بتائیں کہ بائبل جھوٹی نہیں بلکہ سچی کتاب ہے، تم جھوٹے ہو جس نے بائبل کو سمجھا نہیں۔ تو اس پہلو سے بائبل کی بھی تو تفسیر کریں کیونکہ انہوں نے جو تفسیریں لکھی ہیں وہ ساری اندھی ہیں۔ بائبل کی تفسیریں بھی اندھی لکھی ہیں تو یہ قرآن کی تفسیریں کیسے روشنی والی لکھ دیں گے۔ تو یہ سفر جب شروع کیا تو جیسا میں نے بیان کیا ہے دو تین معین راہیں تھیں جن کی منزل سامنے تھی اور اس سفر کے دوران ہر راہ میں سے اتنی شاخیں پھوٹنی شروع ہوئیں کہ آگے پھر اور مزید ، اور مزید اور اس کے علاوہ کچھ اور بھی چاہئیں اور جو سفر پہلے شروع کیا گیا تھا اب اس کے محدود دائرے میں ہی بے شمار لامحدود با تیں اور دکھائی دینے لگیں۔ تو اب پھر ہم نے مختلف ملکوں پر ٹیمیں پھیلا دیں اور اب ان ٹیموں کے سپر د جو کام کئے جا رہے ہیں وہ بھی ہاتھ سے نکلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ۔ باسط احمد ہمارے یہاں انچارج ان کو بنایا گیا ہے ، شیخ مبارک احمد صاحب کے صاحبزادے ، بڑی محنت اور بڑے خلوص کے ساتھ ، بڑی حکمت کے ساتھ وہ ٹیموں کو تیار کر رہے ہیں ۔ ایک مسئلے کے اوپر میں نے ان سے کہا کہ آپ ا کہ آپ کی ٹیم آئے ! ئے اور مجھ سے دوبارہ ٹھ سے دوبارہ گفتگو کرے میں آپ کو بتاؤں گا کہ یہ خطوط نہیں بلکہ ان خطوط پر بات ہوئی ہے۔ دو تین اجلاسوں کے بعد انہوں نے ہاتھ اٹھا لئے ۔ انہوں نے کہا جواب آپ نے باتیں بتائی ہیں یہ تو ہم تین چار کے بس کی بات ہی نہیں ہے۔ میں نے کہا پھر ٹیمیں بناؤ۔ میں نے کب کہا ہے نہ بناؤ۔ تو یہ خدا کے نور کی مثال ہے یعنی اس نور نے جب ہر چیز پیدا کی اور ہر چیز کی کنہ وہ ہے تو اگر وہ لامحدود ہے تو اس کی تخلیق میں بھی لا محدودیت کی جھلکیاں آپ کو ضرور دکھائی دیں گی اور ایک چھوٹے سے چھوٹے ذرے میں بھی خدا کا سفر اس نور کے حوالے سے کریں جو اس نے پیدا کیا ہے تو وہ لامتناہی ہو جائے گا۔ ورنہ یہ سمجھنا پڑے گا کہ ایک مقام پر آکر آپ کھڑے ہو جائیں اور کہیں کہ اس سے آگے کچھ بھی نہیں ہے۔