خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 929 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 929

خطبات طاہر جلد 14 929 خطبہ جمعہ 8 رو سمبر 1995ء میں نہیں آیا جس میں سائنس دانوں نے یہ کہا ہو کہ اس چیز کا آخری کنارہ ہمیں میسر آ گیا ہے اب اس مضمون پر اور کچھ نہیں رہا۔اس کے بالکل برعکس تمام سائنس دان جو صاحب فہم اور صاحب ادراک ہوں جن کو حقیقت فہمی کا سلیقہ اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہو اور اکثر سائنس دان ایسے ہی ہیں۔شاید ہی کوئی متکبر ہومگر میرے علم میں ایسا کوئی متکبر نہیں آیا جس نے یہ کہا ہو کہ ہم نے اس چیز کی تحقیق کرتے کرتے یہاں پہنچ کر اس مضمون کو ختم سمجھا ہے اس سے آگے کچھ نہیں ہے۔ہاں یہ سب کہیں گے کہ جب ہم یہاں پہنچے تو جتنے دروازے ہم نے کھولے تھے اس سے اور زیادہ دروازے دکھائی دیئے ہیں اور اب ہمارا تنہا کام نہیں اور ٹیمیں شامل ہونی چاہئیں اور محققین ہونے چاہئیں جو کوئی اس قفل کو کھولے اور اس دروازے کا سفر شروع کر دے یعنی جس طرف وہ دروازہ کھلتا ہے۔یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے اس لئے سائنس کی ترقی نے سائنس دانوں کی تعداد کم نہیں کی بڑھائی ہے اور بے شمار بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود ان کی کمی محسوس ہورہی ہے۔ہر علم میں اور شاخیں نکلتی چلی آرہی ہیں۔ہر شاخ کے لیے مزید خدمتگار اور تحقیق کرنے والے میسر آنے چاہئیں۔اپنے چھوٹے سے تجربے سے میں آپ کو بتا تا ہوں کہ انگلستان آنے کے بعد مجھے خیال آیا کہ یہ لوگ تو اسلام کی تحقیق کے نام پر ہر جگہ عیوب تلاش کرتے پھرتے ہیں اور جہاں اپنے مطلب کی بات ملے وہاں اسے اچھال کر اسلام کے خلاف پرو پیگنڈہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔قرآن کے اوپر ان لوگوں نے تفسیریں لکھی ہوئی ہیں اپنی طرف سے قرآن کے اوپر جرح و قدح کی ہوئی ہے مگر آج تک مجھے کوئی مسلمان نہیں دکھائی دیا سوائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جس نے اس گہری نظر سے بائبل کا مطالعہ کیا ہو اور بائبل پر تحقیق کی ہو اور جہاں تک بائبل کی تفاسیر کا تعلق ہے مجھے تو کبھی کوئی تفسیر نظر نہیں آئی جو کسی مسلمان نے لکھی ہو یا کسی غیر نے لکھی ہو اور وہ بائبل کی تفسیر ہو۔تو اگر ان کو حق ہے کہ اندھا ہونے کے باوجود نور کی تفسیر لکھنے کی کوشش کریں تو ہمیں نور یافتہ ہونے کے باوجود نور کامل سے فیض پانے کے باوجود کیوں حق نہیں بلکہ ہم پر تو فرض ہے کہ ان کی بائبل کی تفسیریں لکھیں اور جن پہلوؤں کو یہ اندھیروں کے طور پر پیش کرتے ہیں ان سے پردے اٹھا ئیں اور بتائیں کہ یہ بھی اسی نور کا فیض تھا جس سے قرآن جاری ہوا ہے۔پس اس نقطہ نگاہ سے میں نے ایک ریسرچ ٹیم بنائی۔چندلوگوں سے شروع ہوا سفر اور چند معین