خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 928 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 928

خطبات طاہر جلد 14 928 خطبہ جمعہ 8 رو سمبر 1995ء وہ مشرک ہے اگر وہ اس نور کے حوالے سے سفر شروع کرتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرح یہ کہ سکتا ہے کہ: جب سے یہ نور ملا نور پیمبر سے ہمیں ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے (در نمین: 16) تو اس میں شرک کا شائبہ تک نہیں ہے۔وہی کامل موحد ہے اور یہی حال خدا تعالیٰ کی دنیا میں جلوہ گری کا ہے۔ہر چیز اس نے پیدا کی ہے وہ خدا کے اصل نور کا ایک پر تو ہے جونور کی صورت میں آپ کو دکھائی دیتا ہے۔اگر اس نور پر بیٹھ رہیں ، اس سے محبت کریں اور پس پردہ نور جو ہے جس کی جلوہ گری سے دراصل وہ نور کا پردہ بنایا گیا ہے غافل رہیں تو پھر آپ نے اپنے سفر کا مقصد کھو دیا اور خدا تعالیٰ منتظر ہے کہ آپ دیکھیں ، ہر طرف نور کا جلوہ دیکھیں اور خیال اس خالق و مالک کی طرف جائے جو سب کے اندر تہ بہ تہ آخری صورت میں جلوہ گر ہے جس کی وجہ سے ہر چیز کو نور عطا ہوا ہے اور نور دکھائی دیتا ہے۔اگر آپ اس بات کو نہ سمجھیں تو دنیا کی ہر لذت ایک شرک کی طرف لے جانے والی چیز ہے اور جو نہی لذت پیدا کرنے والے کا خیال آتا ہے وہیں یہ شرک توحید میں بدل جاتا ہے۔پس توحید اور شرک کے درمیان ایک پل صراط ہے، بہت ہی باریک فرق ہے۔اور جہاں تک نور کا تعلق ہے آپ اس بات کو اگر ٹھہر کر تسلی سے، غور کر کے دیکھیں تو آپ ایک اور بات پا کر حیران رہ جائیں گے اور ششدر رہ جائیں گے کہ اگر خدا ہی کے نور سے جو اصل نور ہے جس کو ہم نہیں دیکھ سکتے۔ہر پردہ نور پیدا ہوا ہے جو خدا کی طرف لے جانے والا ہے تو وہ ہر پردہ بھی ہمارے نقطۂ نگاہ سے لامحدود ہونا چاہئے کیونکہ جو لا محدود چیز کوئی چیز پیدا کرتی ہے اس میں لا محدودیت کی صفات دکھائی دیتی ہیں۔اس پہلو سے اگر آپ سائنس کے سفر کا مطالعہ کریں تو یہ دیکھ کر آپ حیران رہ جائیں گے کہ خدا تعالیٰ کی تخلیق کے جس ذرے پر بھی سائنس دانوں نے غور شروع کیا ہے ان کو کبھی اس کا آخری کنارہ نہیں ملا۔ہر سفر لامتناہی سفر ہے حالانکہ یہ پردہ نور کا سفر ہے۔خود نو را بھی اس سے پرے وراء الوریٰ کہیں اور ہے لیکن جو کچھ نور کا پردہ اس نے ڈالا ہے وہ پردہ بھی لامتناہی ہے۔جتنا بھی سائنسی سفروں کا مطالعہ کرنے کی مجھے توفیق ملی ہے کوئی ایک بھی ایسا سفر میرے علم