خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 927 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 927

خطبات طاہر جلد 14 927 خطبہ جمعہ 8 دسمبر 1995ء کسی کی ملکیت ہو۔اس وجود کی تسلی کا سامان کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور پھر کھودیا اور واپس لوٹو اس کی طرف جو تمہارا منتظر ہے۔یہی وہ مضمون ہے جس کو آنحضرت ﷺ نے ایک گم شدہ اونٹنی کی مثال دے کر بیان فرمایا ہے۔یعنی ایک عجیب بات ہے انسان سوچتا ہے کہ اللہ کو ہماری کیا انتظار ہے۔اگر اس کو انتظار نہ ہوتا تو اِنَّا لِلہ کا مضمون بے معنی ہوتا اور اگر اس کو ہمارا انتظار نہ ہوتا تو پھر تخلیق کائنات بے معنی ہو جاتی، بالکل باطل اور بے مقصد ہوتی۔پس آپ نے ایک اونٹنی کی مثال دے کر اسے خوب کھول دیا۔فرمایا اللہ تعالیٰ کو اپنے اس بندے کی توبہ سے جو گناہوں کی دنیا میں کھو گیا ہو اور پھر تو بہ کر کے خدا کی طرف واپس آئے اس سے بہت خوشی ہوتی ہے جتنی ایک ایسے مسافر کو اپنی گم شدہ اونٹنی پانے سے خوشی ہوتی ہے جو پیتے ہوئے لق و دق صحراء میں کسی ایک درخت کے سائے میں دو پہر گزارنے کے لئے لیٹا ہو، اس کی آنکھ لگ جائے اور اس کی اونٹنی جس پر اس کا پانی ، اس کا سارا سامان خوردونوش ہر چیز ہو وہ جنگل میں کھو جائے۔جو اس کا حال ہوگا اور جیسی اس کی طلب ہوگی اس کا اندازہ کرو اور جب وہ کلیہ مایوس ہو چکا ہو تو شام کو وہ دیکھے کہ وہ اونٹنی افق کی طرف سے آتی دکھائی دے رہی ہے جیسی خوشی اس شخص کو اپنی گھی ہوئی اونٹنی کو پالینے سے ہوتی ہے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اپنے کھوئے ہوئے بندے کو دوبارہ پا کر خدا کو اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے۔پس جتنی طلب آپ کو ہونی چاہئے اس کا اندازہ کریں جو نہیں ہے اور خدا کو طلب ہے۔جس نے آپ کو پیدا کیا وہ چاہتا تو آپ کو زبردستی اپنی طرف لوٹا سکتا تھا مگر اس دنیا میں اس طرح آپ کو کھلا چھوڑ دیا کہ اس کی پیدا کردہ چیزوں کے حسن میں تو آپ کھو جاتے ہیں خالق کی طرف دھیان نہیں جاتا۔یہ مضمون ہے جس کو آنحضرت ﷺ نے اس تمثیل کے ذریعے ہمیں سمجھایا۔پس اس کا نور کے ساتھ کیا تعلق ہے۔نور کے ساتھ واضح تعلق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اپنے نور سے پیدا کیا ہے اور پھر فرمایا کہ میں زمین و آسمان کا نور ہوں اور پھر فرمایا کہ میری ہی طرف تمہیں لوٹنا ہے۔اب یہ سفر نور کے رستے سے ہونا چاہئے نور پر بیٹھے رہنے سے نہیں۔بلکہ نور کے وسیلے سے۔پس اگر کوئی شخص حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کے نور کا عاشق ہو کر وہیں بیٹھ رہتا ہے تو