خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 926
خطبات طاہر جلد 14 926 ۷ خطبہ جمعہ 8 /دسمبر 1995ء کی طاقت کے مطابق بنائے جو حصہ رسدی اس پر پڑنے والی ہے تو وہ جہاز ٹھیک رہتا ہے اور اگر معمولی سا بھی حساب میں فرق پڑ جائے تو بالآخر اپنی مدت سے پہلے وہ حادثے کا شکار ہو جاتا ہے۔چنانچہ وہ سب جہاز جو حادثے کا شکار ہوئے ان کے اوپر سائنس دانوں نے مکمل تحقیق کی تو آخر یہ پتا چلا کہ آخری بو جھ جو اس پر پڑنا چاہیے تھا اور پڑتا رہا اس میں فلاں پرزہ پورا کام نہ کر سکا کیونکہ اس میں اپنا حصہ رسدی بوجھ اٹھانے کی طاقت نہیں تھی۔پس لوگ سمجھتے ہیں کہ فرضی باتیں ہو رہی ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ سب سے پہلے بنائے گئے ناممکن تھا کہ کائنات کا ایک ذرہ بھی بنایا جاتا جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشکیل اللہ کے حضور اس کے پیش نظر نہ ہوتی۔ورنہ خدا کی خدائی باطل ہو جاتی ورنہ خدا ان دنیا کے انجینئروں سے بھی زیادہ کم فہم ہوتا جو ڈیزائن کے کمال سے پہلے ڈیزائن کی تعمیر کا سفر شروع کر دیتا ہے۔پس ایک بھی دعوی آنحضرت ﷺ کی بڑائی کا فرضی دعوی نہیں ، زبانی دعوی نہیں۔گہرے حقائق پر مبنی اور گہرے حقائق پر مشتمل ہے اور ہمیں جس سفر کا حکم ملا ہے وہ اس نور کی طرف سفر کرنے کا حکم ہے۔ساری زندگی ہم یہ سفر کرتے رہیں تو پھر بھی ہم میں سے اکثر ایسے ہیں جو اپنی بہت سی طاقتوں کو ضائع کر کے جتنا سفران کی استطاعت میں اللہ نے رکھا تھا اس کو بھی حاصل نہیں کر سکتے ، اس منزل تک بھی نہیں پہنچ سکتے۔اور محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف یہ سفر اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ کی شاہراہ کی طرف بڑھنے والی مختلف شاخیں ہیں۔وہ سڑکیں ہیں جو اسی شاہراہ کی طرف بڑھ رہی ہیں۔اگر ہم اپنی صلى الله حرکت اور سکون کو یہ سمت دے دیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف جاری ہے تو پھر ہم اِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کا سفر کر رہے ہیں ، پھر ہمیں فکر کی کوئی بات نہیں ، پھر ہمارا کوئی نقصان نہیں۔اِنَّا لِله در اصل نقصان کے خیال سے نہیں پڑھا جاتا بلکہ یہ بتانے کے لئے پڑھا جاتا ہے کہ ہر چیز نے خدا کی طرف لوٹنا ہے، تم اس کی جدائی کا فکر کر رہے ہو اپنا نہیں سوچ رہے کہ تم گم شدہ ہو تم ضائع شدہ ہو تم نے اپنے رب کی طرف واپس جانا ہے۔لوگ اس بات کو تو بھول جاتے ہیں اور گم شدہ چیز پر پھونک مارنے کی خاطر کہ وہ ان کو مل جائے اِنَّا لِلہ پڑھ دیتے ہیں حالانکہ واضح مضمون یہ ہے کہ دیکھو جو تمہاری چھوٹی سی ملکیت تھی جب تک تمہاری طرف واپس نہ آجائے تم تسلی نہیں پاتے۔تم بھی تو