خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 925
خطبات طاہر جلد 14 925 خطبہ جمعہ 8 /دسمبر 1995ء بات کے پیش نظر تھا کہ وہ وجود پیدا ہو گا جس نے بالآخر مجھ سے ملنا ہے اور میرا کامل عبد ہو گا اور وہ وجود پیدا ہوگا جس کے لوٹنے سے گویا ساری کائنات خدا کی طرف لوٹ گئی ہے۔یہ معنی ہے اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ ( البقرہ: 157) کہ ہم نے اللہ ہی کی طرف جانا ہے۔ہم سب تو نہیں جاتے ، مرکر جانا اور معنیٰ رکھتا ہے۔مگر اس کا اعلیٰ مفہوم یہ ہے کہ خدا نے ہر چیز کو اپنی ذات سے، اپنے نور سے پیدا کیا ہمیشہ کے لئے دور تر ہونے کے لئے نہیں ، ہمیشہ کے لئے اندھیروں میں بھٹکنے کے لئے نہیں بلکہ واپس اپنی طرف لے جانے کے لئے اور یہ واپسی کا سفر شعور کے بغیر ممکن نہیں تھا اور یہ شعور کا سفر ہر حالت میں ناقص تھا جب تک اپنے درجہ کمال کو نہ پہنچے یعنی حمد مصطفی ﷺ کا شعور کامل پیدا نہ ہو۔پس اس پہلو سے حضرت اقدس محمد مصطفی یہی ہے اگر چہ اپنے آپ کو حق کہنے میں آخر پر رکھتے ہیں مگر وہاں اصل مراد وہی ہے جو دوسری احادیث سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ آخر ان معنوں میں ہوں جن معنوں میں اس آخر کا اول ہونا ضروری ہے۔بیچ کی منازل کا اول ہونا ضروری نہیں کیونکہ بیچ کی منازل کو سامنے رکھ کر سفر کے رستے طے نہیں کیے جاتے یا کسی چیز کو ڈھالا نہیں جاتا۔اگر ایک جمہو جیٹ بنانا مقصود ہو تو سب سے پہلے طے کیا جاتا ہے کہ بنانا کیسے ہے۔کتنا لوڈ اٹھانے والا ہو،کس رفتار کی چیز چاہئے، کیا کیا اس میں حفاظتی اقدام ہونے ہیں۔یہ جب تک نقشہ پہلے پیدا نہ ہو جمبو جیٹ بھی نہیں بن سکتا اور ہر دوسرا جہاز جو آپ کو دکھائی دیتا ہے خواہ وہ کسی نوعیت کا بھی ہو اس کا سفر شروع ہونے سے پہلے اس کی آخری تصویر لازماً واضح طور پر ایک بنانے والے کے ذہن میں ابھر آتی ہے۔پھر وہ اس سے روشنی لیتا ہے۔ہر قدم اٹھاتے وقت وہ تصویر سامنے رکھتا ہے۔جب نٹ (Nut) بناتا ہے، جب بولٹس (Bolts) بناتا ہے، جب پر اور اس کے بعض حصے بناتا ہے ، جب انجن کی تشکیل کرتا ہے ، جب طاقت کے فیصلے کرتا ہے، کتنی طاقت دینی چاہیے تو شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر اور بسا اوقات شعوری طور پر اس جیٹ کا آخری بوجھ جو اس نے اٹھانا ہے وہ ہمیشہ اس کے پیش نظر ہوتا ہے۔وہ پھر باقاعدہ بوجھ تقسیم کرتا ہے۔جب کہتا ہے کہ اتنے مسافر لے کر اٹھے گا، اتنا انجن کا پٹرول اس کے لئے ضروری ہوگا اور آخری وزن اس کا یہ بنتا ہے تو ہر Nut جو وہ لگاتا ہے اس کی ضر میں اور تقسیمیں کر کے اس کے اوپر تقسیم کر کے بتاتا ہے کہ اس Nut پر کتنا بوجھ پڑے گا اور کتنے سال تک اڑے گا۔اس کی عمر بھی طے کرتا ہے اور پھر سارے اربعے لگا کر اگر وہ Nut کو اس