خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 924 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 924

خطبات طاہر جلد 14 924 خطبہ جمعہ 8 /دسمبر 1995ء سکتا۔کوئی بھی انجینئر خواہ وہ عمارت کا نقشہ ہی تجویز کرے یا مثلاً انجینئر میں نے کہہ دیا ہے مگر اس کو آرکیٹیکٹ کہا جاتا ہے انگریزی میں، جو نقشہ بناتا ہے مگر آرکیٹیکٹ کے علاوہ انجینئر ز بھی ہیں جو ڈیزائن کرتے ہیں ان سب چیزوں کو جو انہوں نے بنانی ہوں۔جب تک آخری مقصد ذہن میں پوری طرح تشکیل نہ پا جائے وہ ڈیزائن شروع ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اگر آخری مقصد کی واضح موجودگی کے بغیر ، واضح طور پر ذہن کے سامنے دکھائی دینے کے بغیر کوئی ڈیزائن کرنے والا ڈیزائن شروع کرے گا وہ ہر قدم پر غلطی کرے گا کیونکہ دو ہی طریق ہیں ایک انجام تک پہنچنے کے لئے۔ایک ہے آغا ز سفر سے پہلے آخری منزل کا پتا ہو اور یہ وہ طریق ہے جس کے نتیجے میں ہر حکیم ، ہر صاحب فہم پہلے منزل کا تعین کرتا ہے پھر راستے ڈھونڈتا ہے اور پھر اگر اسے جغرافیہ پر عبور ہو اور دیگر صلاحیتیں موجود ہوں تو پھر اچھے راستے تراشتا ہے اور وہ بہترین رنگ میں سفر کرتے ہوئے اس منزل کو پہنچ جاتا ہے۔ایک وہ دیوانہ یا اندھا ہے جو بغیر نور کے سفر شروع کرتا ہے اسے آخری منزل کا پتا نہیں ہوتا۔وہ چلتا ہے کہیں تو پہنچ جائیں گے اور اگر سفر پہلے شروع ہو جائے اور بیچ میں خیال آئے کہ میں نے تو اس طرف جانا تھا تو سارے قدم غلط ہو گئے۔اس لئے اللہ کی طرف یہ بات منسوب ہو ہی نہیں سکتی۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ایک خیالی ، ایک فرضی تعریف ہے نعوذ باللہ من ذالک اور جو ماننے والے ہیں صرف انہی کا کام ہے کہ اس کو مانتے چلے جائیں۔حالانکہ آنحضرت علیہ کی تمام تعریفیں حق ہیں۔جیسا کہ اسی عبارت میں جو آپ کے سامنے پڑھ کر سنائی گئی ہے۔تمام باتوں کو حق کہہ کر سب سے آخر پر اپنے آپ کو حق فرمایا۔پس جو حق آخر پر تھا اس کا مطلب یہ نہ سمجھیں کہ اس سے آپ کا مقام مراد ہے سب نبیوں کے بعد مقام ہے بلکہ آخر اور اول بعض صورتوں میں ایک ہی چیز کے دو نام ہوا کرتے ہیں۔اگر آخری منزل ہو تو پھر اس کا پہلا قدم بھی اس آخری منزل کی تصویر بننے کے بعد اٹھتا ہے اس سے پہلے نہیں اٹھ سکتا۔پس وہ تمام زندگی کا سفر یا کائنات کی تخلیق کا سفر جب کہ ابھی زندگی بھی وجود میں نہیں آئی تھی ، وہ سفر اگر حضرت محمد رسول اللہ یہ کے تصور کے بغیر شروع ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی قدرت پر حرف تھا، اللہ تعالیٰ کی تخلیقی طاقتوں پر حرف تھا کسی اور سمت میں جانے کے بعد پھر اس سمت میں لوٹنا پڑتا۔پس اول سے لے کر آخر تک تمام صفات جو کائنات کو عطا کی گئیں ہیں ان کا ذرہ ذرہ اس